دنیا کا سب سے بڑا سونے کا ذخیرہ کس نے دریافت کیا؟

نیوزڈیسک

0

ہنان:دنیا کا سب سے بڑا سونے کا ذخیرہ حال ہی میں چین میں دریافت ہوا ہے، جس سے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

یہ دریافت نہ صرف چین کی اقتصادی طاقت کو مزید مستحکم کرے گی بلکہ سونے کی عالمی مارکیٹ میں بھی نمایاں تبدیلیاں لانے کا سبب بن سکتی ہے۔

اس ذخیرے کی دریافت سے چین کی سونے کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، جس سے عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں اور تجارت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس ذخیرے کو ممکنہ طور پر دنیا کا سب سے بڑا سونے کا ذخیرہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں تقریباً 1 ہزار میٹرک ٹن اعلیٰ معیار کا سونا موجود ہے۔

چین کے صوبے ہنان میں دریافت ہونے والے اس سونے کے ذخیرے کی مالیت 83 ارب امریکی ڈالرز سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے 2 کلومیٹر کی گہرائی میں تقریباً 300 میٹرک ٹن سونا ہونے کا پتہ چلا ہے، جبکہ اس سے زیادہ گہرائی میں مزید ذخائر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

مقامی جیولوجیکل بیورو کے مطابق ایک اندازے کے مطابق سونے کے اضافی ذخائر 3 ہزار میٹر کی گہرائی میں پائے جا سکتے ہیں، اور اگر یہ درست ثابت ہوا تو ان ذخائر کی مالیت 83 ارب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے۔

مائننگ ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق چینی سونے کے ذخائر کی دریافت سے پہلے دنیا کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر جنوبی افریقہ، انڈونیشیا، روس، چلی، امریکا اور دیگر ممالک میں موجود تھے۔

مزید پرئیے:https://urdu.thepenpk.com/?p=5362

Leave A Reply

Your email address will not be published.