غزہ میں ممنوعہ ہتھیاروں کی بمباری سے ہزاروں لاشیں ہوا میں تحلیل
غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ممنوعہ دھماکہ خیز مواد کے استعمال سے 46,537 افراد شہید ہوچکے ہیں، جن میں سے متعدد کی لاشیں بخارات بن گئیں۔
غزہ:غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے ممنوعہ دھماکہ خیز مواد کے باعث ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں متعدد متاثرین کی لاشیں بخارات بن کر ہوا میں تحلیل ہوگئیں۔
رپورٹ کے مطابق، غزہ میں اسرائیلی بمباری کے مقامات پر 7,820 لاشیں جزوی طور پر بخارات بنی ہوئی تھیں، جو سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے جاری اسرائیلی کارروائیوں کے تمام متاثرین کا دس فیصد بنتی ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں سے دس فیصد متاثرین کی لاشیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں یا ان کے اتنے چھوٹے چھوٹے حصے ہو گئے کہ انہیں نکالنا ممکن نہیں تھا۔
غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر منیر البرش نے انکشاف کیا کہ اسرائیل شمالی غزہ میں اپنی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے دوران ممنوعہ ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
مزید پرئیے:https://urdu.thepenpk.com/?p=5813
انہوں نے بتایا کہ بعض دھماکوں میں درجہ حرارت چار ہزار ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، جس کی وجہ سے لاشیں بخارات بن جاتی ہیں۔
ڈاکٹر البرش کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کے ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال نے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور شہری آبادی پر غیرمعمولی طاقت کے استعمال کے بارے میں گہری تشویش پیدا کی ہے۔
انہوں نے خاص طور پر التابعین اسکول پر فجر کے وقت ہونے والے حملے کا ذکر کیا، جس میں درجنوں افراد کی لاشیں مکمل طور پر ختم ہوگئیں۔
غزہ کے حکام کے مطابق، اب تک اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 46,537 تک پہنچ چکی ہے۔