نیوز ڈیسک
اسلام آباد: پاکستانی اداکارہ سحر ہاشمی نے ڈرامہ انڈسٹری میں فنکاروں کو بروقت معاوضے کی عدم ادائیگی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے پروڈیوسرز کے مبینہ غیر پیشہ ورانہ رویے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اداکارہ نے نشاندہی کی کہ فنکاروں کی جانب سے کام میں معمولی تاخیر کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن پروڈیوسرز کی جانب سے مہینوں تک ادائیگیاں روکنے کو محض اکاؤنٹنگ کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
سحر ہاشمی نے اپنے انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے فنکاروں کو درپیش اس مسئلے کی جانب توجہ دلائی اور شوبز انڈسٹری میں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے حوالے سے پائے جانے والے دوہرے معیار پر تنقید کی۔
اداکارہ کے مطابق، اگر کوئی فنکار اپنے کام میں ایک دن کی تاخیر کر دے تو اسے فوری طور پر غیر پیشہ ورانہ رویے کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے، جبکہ پروڈیوسرز کی جانب سے فنکاروں کے معاوضے کئی ماہ تک ادا نہ کرنے پر مختلف جواز پیش کیے جاتے ہیں۔
ان کے اس بیان نے فنکاروں کے حقوق، بروقت ادائیگیوں اور شوبز انڈسٹری میں پیشہ ورانہ اصولوں کی یکساں پابندی سے متعلق بحث کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔ فنکاروں کے لیے معاوضے کی بروقت ادائیگی نہ صرف ان کے مالی معاملات بلکہ ان کے پیشہ ورانہ تحفظ کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔
سحر ہاشمی نے ڈرامہ سیریل ’ظلم‘ سے اپنے اداکاری کے سفر کا آغاز کیا اور گزشتہ چند برسوں کے دوران انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں اپنی پہچان بنائی۔ انہیں ڈرامہ ’شہدائی‘ میں اداکاری کے بعد نمایاں شہرت ملی، جبکہ ’زنجیریں‘ میں شہر بانو کے کردار نے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ کیا۔
اداکارہ جلد ہی نئے ڈرامے ’درِ نجات‘ میں بھی دکھائی دیں گی، جس میں وہ خوش بخت کے کردار کے جوانی کے دور کی عکاسی کریں گی۔
سحر ہاشمی کی جانب سے اٹھایا گیا یہ معاملہ اس سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ جب فنکاروں سے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی مکمل پابندی کی توقع کی جاتی ہے تو پروڈیوسرز کے لیے بھی بروقت ادائیگیوں اور معاہدوں کی پاسداری کو اتنی ہی اہمیت کیوں نہیں دی جاتی۔
