اشتیاق احمد
بریڈفورڈ: پاکستان کو اس وقت اندرونی اور بیرونی سلامتی کے چیلنجز، وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان کشیدہ تعلقات اور بڑھتی ہوئی سیاسی تلخی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز کے ساتھ ساتھ ملک کو وسیع پیمانے پر پھیلی غربت سے نمٹنے کے ایک سنگین مسئلے کا بھی سامنا ہے، جس کے اثرات معاشرے کے مختلف طبقات پر مرتب ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے مطابق، پاکستان میں ہر 10 میں سے تقریباً چار افراد کثیرالجہتی غربت کا شکار ہیں۔ ان افراد کو صحت، تعلیم اور معیارِ زندگی کے شعبوں میں بیک وقت مختلف محرومیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ باہم مربوط چیلنجز اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کی گہری سماجی و معاشی کمزوریوں کو دور کرنے اور صوبوں کے درمیان بڑھتے ہوئے احساسِ محرومی اور عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے مربوط طرزِ حکمرانی، سیاسی استحکام اور پائیدار و جامع ترقی ناگزیر ہے۔ صوبائی سطح پر بڑھتا ہوا احساسِ محرومی تنازعات میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
یہ اعداد و شمار پاکستان میں ترقیاتی بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔ لاکھوں پاکستانیوں کے لیے غربت کا تعلق محض اس بات سے نہیں کہ وہ کتنی آمدنی حاصل کرتے ہیں، بلکہ اس سے بھی ہے کہ آیا انہیں تعلیم، صحت کی سہولیات، پینے کے صاف پانی، نکاسی آب اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے درکار دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل ہے یا نہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی جانب سے جاری کردہ عالمی کثیرالجہتی غربت انڈیکس (MPI) 2024 کے تخمینے کے مطابق، پاکستان کی 38.3 فیصد آبادی کثیرالجہتی غربت میں زندگی گزار رہی ہے، جبکہ مزید 12.9 فیصد آبادی کو اس غربت کا شکار ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔
غربت کا شکار افراد میں محرومی کی اوسط شدت 51.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو انڈیکس میں شامل مختلف پیمانوں کے نصف سے زیادہ حصوں میں محرومی کا سامنا ہے۔
علاقائی موازنہ پاکستان کے ترقیاتی چیلنجز کو مزید واضح کرتا ہے۔ غربت کے اشاریوں کے حوالے سے پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش سے پیچھے ہے، جو پاکستانی قیادت کے لیے سنجیدہ غوروفکر کا متقاضی ہے۔
اگرچہ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ مختلف ممالک میں غربت کی پیمائش کے قومی اشاریے الگ الگ طریقہ کار استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث ان کے نتائج اور تخمینوں میں فرق ہو سکتا ہے، تاہم پاکستان کی مجموعی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔
یہ تفاوت ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ پاکستان اپنی معاشی سرگرمیوں، عوامی اخراجات اور ترقیاتی اقدامات کو عوام کی زندگیوں میں وسیع پیمانے پر بہتری لانے میں کیوں تبدیل نہیں کر سکا؟
اس سوال کا جواب متعدد ساختی کمزوریوں میں پوشیدہ ہے، جن میں تعلیمی محرومی، ناکافی عوامی خدمات، غیر مساوی ترقی اور کم آمدنی والے گھرانوں کا معاشی و ماحولیاتی جھٹکوں کے مقابلے میں غیر محفوظ ہونا شامل ہیں۔
یہ عوامل ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں خاندانوں کے لیے نہ صرف غربت سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے بلکہ انہیں مزید گہری غربت میں گرنے سے بچنے کے لیے بھی مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
تعلیمی محرومی اور غربت کا تعلق
تعلیم پاکستان کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ تعلیم کا ناقص معیار معاشی ترقی اور پائیداری پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے 2016 میں نشاندہی کی تھی کہ پاکستان میں مجموعی کثیرالجہتی غربت میں تعلیمی محرومی کا حصہ 42.8 فیصد تھا۔ اس کے بعد معیارِ زندگی سے متعلق محرومیاں 31.5 فیصد اور صحت سے متعلق محرومیاں 25.7 فیصد تھیں۔
تعلیم کے شعبے میں اسکول میں گزارے گئے سالوں کی تعداد غربت کی قومی پیمائش میں سب سے اہم انفرادی عوامل میں شامل تھی۔
اگرچہ یہ اعداد و شمار پرانے ہیں، تاہم یہ مسئلے کی ساختی نوعیت کو واضح کرتے ہیں۔ تعلیمی محرومی کا تعلق صرف اس بات سے نہیں کہ بچے اسکول میں داخل ہیں یا نہیں، بلکہ اس سے بھی ہے کہ وہ کتنے عرصے تک تعلیم حاصل کرتے ہیں، انہیں کس معیار کی تعلیم میسر آتی ہے اور آیا وہ ایسی مہارتیں سیکھ پاتے ہیں جو بدلتی ہوئی معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
جب بچے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں یا بالغ افراد مناسب تعلیمی مواقع حاصل نہیں کر پاتے تو ان کے خاندانوں کو مستحکم روزگار کے حصول، آمدنی میں اضافے اور نسل در نسل جاری رہنے والے غربت کے چکر کو توڑنے میں زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں۔
اس کے اثرات صرف انفرادی خاندانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کو بھی متاثر کرتے ہیں اور ملک کی طویل مدتی معاشی صلاحیت کو محدود کر دیتے ہیں۔
تعلیمی محرومی کے اثرات اس وقت مزید سنگین ہو جاتے ہیں جب ان کے ساتھ صحت کی ناکافی سہولیات، پینے کے صاف پانی کی قلت، ناقص صفائی ستھرائی اور بجلی کی غیر یقینی فراہمی جیسے مسائل بھی موجود ہوں۔
جن خاندانوں کو بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہوتی، انہیں صحت کے زیادہ خطرات اور اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بیماری کی صورت میں گھرانے آمدنی سے محروم ہو سکتے ہیں، جبکہ بچوں کو تعلیم چھوڑنے پر بھی مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ یوں محرومی کی مختلف شکلیں مل کر معاشرے کے مرکزی دھارے سے دوری اور سماجی اخراج کی کیفیت پیدا کرتی ہیں۔
عالمی بینک نے بھی پاکستان میں غربت کے خاتمے کی راہ میں تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور عوامی خدمات کی کمزوریوں کو مستقل رکاوٹ قرار دیا ہے۔ اکتوبر 2025 میں جاری کردہ اپنے جائزے میں عالمی بینک نے نشاندہی کی کہ انسانی سرمائے کی ترقی میں پیش رفت سست رہی ہے اور دیہی علاقوں میں غربت کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔
یہ نتائج اس امر کو اجاگر کرتے ہیں کہ غربت کے خاتمے کے لیے صرف گھریلو آمدنی پر توجہ دینا کافی نہیں، بلکہ ان عوامی خدمات اور معاشی مواقع کو بھی بہتر بنانا ضروری ہے جو لوگوں کے معیارِ زندگی کا تعین کرتے ہیں۔
معاشی عدم استحکام اور غربت میں اضافہ
معاشی عدم استحکام نے غربت میں کمی لانے کی کوششوں کو مزید کمزور کیا ہے۔ پاکستان نے 2000 کی دہائی کے اوائل سے 2018 تک مالی غربت میں کمی کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی تھی، لیکن بعد ازاں یہ رفتار سست پڑ گئی۔ اس کی ایک اہم وجہ مسلسل معاشی جھٹکے تھے، جنہوں نے گھرانوں کی قوتِ خرید کو متاثر کیا اور روزگار کے مواقع کو محدود کر دیا۔
عالمی بینک کے اکتوبر 2025 کے تجزیے کے مطابق، کووڈ-19 کی وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، معاشی عدم استحکام اور انتہائی بلند افراطِ زر نے غربت میں کمی کے حوالے سے حاصل ہونے والے سابقہ فوائد کو زائل کرنے میں کردار ادا کیا۔ تخمینوں کے مطابق، صرف سیلابوں کے باعث مزید 1 کروڑ 30 لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔
ان جھٹکوں نے ایسے ذرائع معاش کی کمزوری کو بے نقاب کیا جو کم پیداواری روزگار، غیر رسمی کام اور موسم سے متاثر ہونے والی معاشی سرگرمیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ جب قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے یا روزگار غیر یقینی ہو جاتا ہے تو محدود بچت رکھنے والے خاندانوں کے لیے اپنا معیارِ زندگی برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایسے حالات میں خاندان بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لیے خوراک کے استعمال میں کمی کر سکتے ہیں، طبی علاج مؤخر کر سکتے ہیں، بچوں کو اسکول سے اٹھا سکتے ہیں یا قرض لینے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
یہ اثرات اس وقت مزید تباہ کن ہو جاتے ہیں جب خاندان پہلے ہی کئی طرح کی محرومیوں کا شکار ہوں۔ جس گھرانے کو ناکافی رہائش، ناقص صفائی ستھرائی اور صحت کی سہولیات تک محدود رسائی حاصل ہو، وہ معاشی بحران کا مقابلہ اس خاندان کے مقابلے میں کم مؤثر انداز میں کر سکتا ہے جس کے پاس مستحکم روزگار، بچت اور معیاری عوامی خدمات تک رسائی موجود ہو۔
اس طرح آمدنی میں عارضی کمی بھی مسائل کا ایک ایسا سلسلہ شروع کر سکتی ہے جو غربت کو بیک وقت کئی جہتوں سے مزید گہرا کر دیتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور کمزور ذرائع معاش
موسمیاتی آفات غربت اور عدم تحفظ میں اضافے کی ایک اور وجہ ہیں، بالخصوص ان دیہی برادریوں کے لیے جو زراعت اور موسم سے متاثر ہونے والے دیگر ذرائع معاش پر انحصار کرتی ہیں۔
سیلاب گھروں، فصلوں، مویشیوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں خاندان اپنی آمدنی اور بنیادی خدمات تک رسائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
بحالی کے عمل میں برسوں لگ سکتے ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں سرکاری معاونت محدود ہو اور روزگار کے متبادل مواقع نہ ہونے کے برابر ہوں۔ تاہم، صرف قومی اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ پاکستان میں موجودہ کثیرالجہتی غربت کی شرح میں موسمیاتی خطرات کا کتنا مخصوص حصہ ہے۔
عالمی سطح پر کثیرالجہتی غربت
پاکستان کی صورتحال ایک وسیع تر بین الاقوامی چیلنج کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے عالمی کثیرالجہتی غربت انڈیکس 2026 کے مطابق، جو 12 اکتوبر کو جاری کیا گیا، 108 ممالک میں تقریباً 1.2 ارب افراد شدید کثیرالجہتی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
گزشتہ رپورٹ کے مقابلے میں یہ تعداد 5 کروڑ 15 لاکھ افراد کے اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ 2010 میں اس انڈیکس کے آغاز کے بعد سے کثیرالجہتی غربت کا شکار افراد کی مجموعی تعداد میں یہ پہلا اضافہ ہے۔
اس غربت سے متاثرہ افراد میں 61 کروڑ 70 لاکھ بچے شامل ہیں، جبکہ کثیرالجہتی غربت میں زندگی گزارنے والے 83 فیصد افراد دیہی علاقوں میں آباد ہیں۔ یہ نتائج محرومی کی غیر مساوی تقسیم اور ان برادریوں کی خصوصی کمزوری کو اجاگر کرتے ہیں جنہیں مناسب عوامی خدمات اور معاشی مواقع تک رسائی حاصل نہیں۔
پاکستان کے لیے جامع حکمتِ عملی کی ضرورت
پاکستان کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ معاشی استحکام اور ترقیاتی اخراجات کو عوام کی روزمرہ زندگی میں ایسی بہتری میں تبدیل کیا جائے جسے واضح طور پر ناپا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے غربت کے خاتمے کی ایک جامع حکمتِ عملی درکار ہے جو تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور سماجی تحفظ کے باہمی تعلق کو تسلیم کرتی ہو۔
معیاری تعلیم تک رسائی بہتر بنانا اس حکمتِ عملی کی بنیادی ترجیح ہونی چاہیے۔ محض اسکولوں کی تعداد یا داخلوں میں اضافہ کافی نہیں، جب تک بچوں کو سیکھنے کے مؤثر مواقع فراہم نہ کیے جائیں اور وہ تعلیمی نظام میں آگے بڑھنے کے قابل نہ ہوں۔ اساتذہ، اسکولوں کی سہولیات اور تعلیمی نتائج بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر ہے، بالخصوص پسماندہ دیہی علاقوں اور ان برادریوں میں جہاں تعلیمی محرومی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
صحت کی دیکھ بھال، پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کے مناسب انتظام کو بھی اتنی ہی اہمیت دینا ضروری ہے۔ ان خدمات تک مستقل رسائی سے قابلِ تدارک بیماریوں میں کمی لائی جا سکتی ہے، کم آمدنی والے خاندانوں پر مالی بوجھ کم کیا جا سکتا ہے اور لوگوں کی تعلیم و روزگار میں حصہ لینے کی صلاحیت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
پسماندہ اضلاع تک بنیادی خدمات کی مؤثر فراہمی دیہی اور شہری علاقوں کے معیارِ زندگی کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
اس کے ساتھ پاکستان کو زیادہ پیداواری روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خاندان پائیدار آمدنی حاصل کر سکیں۔ اگر روزگار غیر محفوظ ہو، پیداواری صلاحیت کم ہو اور کارکنوں کے پاس اپنی مہارتیں بہتر بنانے کے محدود مواقع ہوں تو معاشی ترقی غربت میں کمی لانے کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔
روزگار کے ذرائع مضبوط بنانے، ہنر کی تربیت تک رسائی بہتر کرنے اور غیر محفوظ ملازمتوں سے آگے بڑھنے کے مواقع پیدا کرنے والی پالیسیاں خاندانوں کو زیادہ مالی تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔
سماجی تحفظ اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت
بہتر اہداف کے تحت سماجی تحفظ کی فراہمی بھی غربت کے خاتمے کی حکمتِ عملی کا لازمی جزو ہونی چاہیے۔ کمزور خاندانوں کو مہنگائی، بے روزگاری یا قدرتی آفات کے دوران مالی معاونت فراہم کرنے سے انہیں خوراک، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم تک رسائی برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایسے پروگرام بالخصوص اس وقت اہم ہوتے ہیں جب معاشی جھٹکے برسوں کی بتدریج ترقی کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کر دیں۔
موسمیاتی آفات کے مقابلے میں مزاحمت اور بحالی کی صلاحیت پیدا کرنا بھی طویل مدتی غربت میں کمی کی حکمتِ عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔ آفات برداشت کرنے کے قابل بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری اور ذرائع معاش میں تنوع پیدا کرنے سے سیلاب اور دیگر شدید موسمی واقعات کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
دیہی خاندانوں کے لیے معاشی تحفظ بہتر بنانے کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ انہیں ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے اور قدرتی آفات کے بعد اپنی زندگی دوبارہ معمول پر لانے کے لیے کتنے مؤثر وسائل اور مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔
مستند اعداد و شمار کی اہمیت
قابلِ اعتماد اور باقاعدگی سے تازہ کیے جانے والے اعداد و شمار کی ضرورت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ پاکستان میں کثیرالجہتی غربت کی شرح کے حوالے سے وسیع پیمانے پر پیش کیا جانے والا 38.3 فیصد کا تخمینہ 2017-18 میں کیے گئے گھریلو سروے پر مبنی ہے۔
اگرچہ یہ تخمینہ اس دور میں محرومی کے پیمانے اور نوعیت کو سمجھنے کے لیے مفید ہے، تاہم اسے موجودہ حالات کا براہِ راست جائزہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حالیہ اور قابلِ موازنہ گھریلو اعداد و شمار پالیسی سازوں کو یہ شناخت کرنے میں مدد دیں گے کہ کن علاقوں میں غربت بڑھی ہے، کہاں بہتری آئی ہے اور کون سے اقدامات بامعنی نتائج دے رہے ہیں۔
غربت کی پیمائش اور اس کی وجوہات کی وضاحت کے درمیان فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ دونوں پہلو مل کر مسئلے کے بارے میں اہم شواہد فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ہر شناخت شدہ عامل نے پاکستان میں کثیرالجہتی غربت کی شرح میں یکساں حصہ ڈالا ہے۔
آخرکار غربت محض گھریلو آمدنی کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ آیا لوگوں کو تعلیم، صحت کی سہولیات، صاف پانی، بجلی، محفوظ اور پیداواری روزگار اور ایسے حالاتِ زندگی میسر ہیں جو انہیں معاشرے میں مکمل طور پر حصہ لینے کے قابل بناتے ہیں۔
جب ان میں سے متعدد بنیادی ضروریات بیک وقت دستیاب نہ ہوں تو معمولی معاشی پیش رفت بھی لوگوں کی زندگیوں میں بامعنی بہتری لانے میں ناکام ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں کثیرالجہتی غربت میں کمی لانے کے لیے انسانی ترقی میں مسلسل سرمایہ کاری، مضبوط عوامی خدمات اور پسماندہ برادریوں تک پہنچنے والے معاشی مواقع کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسی پالیسیوں کو بھی فروغ دینا ہوگا جو کمزور خاندانوں کو معاشی عدم استحکام اور ماحولیاتی آفات سے تحفظ فراہم کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے وسیع تر طبقوں تک پہنچیں۔
یہ اعداد و شمار ایک تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی قومی ترجیحات کا تعین کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ پاکستان کو درپیش ترقیاتی چیلنج کا حل صرف معاشی استحکام میں پوشیدہ نہیں، اور نہ ہی قلیل مدتی امدادی اقدامات کے ذریعے غربت میں پائیدار کمی لائی جا سکتی ہے۔
دیرپا ترقی کا انحصار ان بنیادی وجوہات کو دور کرنے پر ہے جو لاکھوں افراد کو بنیادی مواقع اور ضروری سہولیات سے محروم رکھتی ہیں۔ ان وجوہات کو حل کیے بغیر، اہم معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجود آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کرتا رہے گا۔
