نیوز ڈیسک
ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حالیہ حملوں میں 17 پاکستانی شہری زخمی ہوئے ہیں، جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، زخمیوں میں سے 15 افراد کو طبی امداد کے بعد ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ دو پاکستانی تاحال زیرِ علاج ہیں۔ دونوں کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
ریاض میں پاکستانی سفارت خانہ متاثرہ شہریوں کی معاونت اور ان کی طبی صورتحال سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے سعودی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، زخمیوں کی تعداد سے متعلق ابتدائی اطلاعات کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے پر متاثرہ پاکستانیوں کی مجموعی تعداد 17 تک پہنچ گئی ہے۔
اس سے قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے نتیجے میں چھ پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ تاہم، بعد میں موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، حملوں میں زخمی ہونے والے پاکستانیوں کی تصدیق شدہ تعداد 17 ہے۔
اردو نیوز کی جانب سے نقل کردہ سفارتی ذرائع کے مطابق، زخمی پاکستانیوں کو ریاض اور درعیہ کے ہسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی گئی۔ زیرِ علاج دو افراد میں سے ایک کے سر پر چوٹ آئی ہے، جبکہ دوسرے کی ٹانگ زخمی ہوئی ہے۔ دونوں مریضوں کی حالت مستحکم ہے۔
زخمی پاکستانی شہریوں کے نام
ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں زخمی ہونے والے 17 پاکستانی شہریوں کے نام درج ذیل: زخمی ہونے والے 17 پاکستانی شہریوں میں محمد فیض علی شیخ، محمد آصف حسین، عروج آفتاب، امداد خان، عرفان خالد مرزا، بابر ریاض، مبشر علی، مبینہ اکرم، بلقیس بی بی، محمد نوید انور، عفرا اشرف، نور الدین، سہیل عرفان، مدیحہ سہیل، سمیع، غفران مرزا اور آدم خان شامل ہیں۔
حملوں کے واقعات
دستیاب معلومات کے مطابق، شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اور 11 اکتوبر کو حملوں کے واقعات پیش آئے۔ فراہم کردہ تفصیلات میں پہلے واقعے کے نتیجے میں 12 افراد کی ہلاکت اور 309 افراد کے زخمی ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ بعد کے ایک حملے میں مبینہ طور پر ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 دیگر زخمی ہوئے۔
زخمیوں کو ان کی چوٹوں کی نوعیت اور شدت کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ شدید زخمیوں کو فوری جراحی اور دیگر ضروری علاج دیا گیا، جبکہ معمولی چوٹوں کا شکار افراد کو ایمرجنسی شعبوں میں طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا۔
ان واقعات نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہریوں کی سلامتی اور اہم شہری تنصیبات کے تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید اجاگر کیا ہے۔ پاکستانی سفارت خانہ متاثرہ افراد کی مدد اور واقعے سے متعلق پیش رفت پر نظر رکھنے کے لیے سعودی حکام سے رابطے میں ہے۔
