نیوز ڈیسک
لاہور: پاکستان نے سہ ملکی ون ڈے سیریز کے چوتھے میچ میں انگلینڈ کو 241 رنز پر آؤٹ کرکے اپنی بولنگ کی دھاک بٹھا دی۔ قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں شاہین شاہ آفریدی نے چار وکٹیں حاصل کرکے انگلش بیٹنگ لائن کو مشکلات سے دوچار کیا، جبکہ بین ڈکٹ کی سنچری بھی انگلینڈ کو بڑا مجموعہ دینے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔
اتوار کو پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جسے پاکستانی بولرز نے ابتدائی اوورز ہی میں درست ثابت کردیا۔ شاہین آفریدی نے پہلے اوور میں ٹام بینٹن کو 4 رنز پر آؤٹ کیا، جبکہ تیسرے اوور میں جو روٹ کو 5 رنز پر پویلین بھیج دیا۔
انگلینڈ کو تیسرا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب کپتان ہیری بروک ایک رن بنانے کے بعد رن آؤٹ ہوگئے۔
حارث رؤف نے جارڈن کاکس کو 6 رنز پر آؤٹ کرکے انگلینڈ کی مشکلات مزید بڑھا دیں اور صرف 52 رنز پر اس کی چار وکٹیں گر گئیں۔
تاہم ابتدائی نقصانات کے بعد بین ڈکٹ اور سیم کرن نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان پانچویں وکٹ کے لیے 93 رنز کی اہم شراکت قائم ہوئی۔ سیم کرن 52 گیندوں پر 42 رنز بنانے کے بعد شاہین آفریدی کا شکار بنے، جس کے بعد انگلش ٹیم کی وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں۔
دوسری جانب بین ڈکٹ نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور پاکستانی بولرز کا مقابلہ کرتے ہوئے شاندار سنچری اسکور کی۔ وہ 111 گیندوں پر 105 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جس میں 10 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔
عرفات منہاس کی گیند پر سلمان علی آغا نے ان کا کیچ پکڑا، جس کے بعد انگلینڈ کی اننگز کو بڑا سہارا دینے والا آخری مستند بلے باز بھی پویلین لوٹ گیا۔
ول جیکس 13، لیام ڈاسن 5 اور جیمی اوورٹن 10 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ ہنری کروکومب 8 رنز ہی بنا سکے۔ گس ایٹکنسن نے اختتامی لمحات میں مزاحمت کرتے ہوئے 28 گیندوں پر 36 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، جس میں 3 چھکے شامل تھے۔
پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی سب سے کامیاب بولر رہے۔ انہوں نے 8.4 اوورز میں 46 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ عرفات منہاس اور رضا اللہ نے دو، دو اور حارث رؤف نے ایک وکٹ حاصل کی۔ شاداب خان کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔
انگلینڈ کی پوری ٹیم 46.4 اوورز میں 241 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، یوں پاکستان کو فتح کے لیے 242 رنز کا ہدف ملا۔
شاہین آفریدی کا اہم سنگ میل
انگلینڈ کے خلاف میچ شاہین شاہ آفریدی کے لیے انفرادی اعتبار سے بھی یادگار رہا، جنہوں نے ٹام بینٹن کو آؤٹ کرکے اپنے ون ڈے انٹرنیشنل کیریئر کی 150 وکٹیں مکمل کرلیں۔ اس سنگ میل کے ساتھ وہ کم ترین میچز میں یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستانی بولرز میں شامل ہوگئے۔
پاکستان کے سابق اسپنر ثقلین مشتاق نے 78 ون ڈے میچز میں 150 وکٹیں مکمل کی تھیں، جبکہ وقار یونس اور شعیب اختر نے 91، 91 میچز میں یہ سنگ میل عبور کیا تھا۔
شاہین آفریدی کی قذافی اسٹیڈیم میں کارکردگی بھی نمایاں رہی ہے، جہاں وہ چھ میچز میں 16 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے 13 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں سے 9 میں کامیابی حاصل کی ہے۔
اکیس سال بعد آمنے سامنے
پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں 21 سال بعد ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیل رہی ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اس میدان پر آخری ون ڈے مقابلہ 12 دسمبر 2005 کو ہوا تھا، جس میں پاکستان نے انگلینڈ کو 7 وکٹوں سے شکست دی تھی۔
موجودہ میچ میں پاکستان نے دو تبدیلیاں کیں۔ نسیم شاہ اور فہیم اشرف کی جگہ رضا اللہ اور شاداب خان کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ رضا اللہ نے اس مقابلے میں اپنا ون ڈے انٹرنیشنل ڈیبیو کیا۔
دوسری جانب انگلینڈ نے جوش ٹونگ کی جگہ ہنری کروکومب کو موقع دیا، جبکہ عادل رشید بدستور ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔
پاکستان کی نظریں فائنل پر
سہ ملکی سیریز کے ابتدائی تینوں میچز راولپنڈی میں کھیلے گئے تھے، جہاں پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز اور انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دے کر مسلسل دو فتوحات حاصل کیں۔ سری لنکا ایک میچ جیتنے میں کامیاب رہا، جبکہ انگلینڈ اپنے ابتدائی دونوں مقابلوں میں شکست کھا چکا ہے۔
پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے خلاف کامیابی حاصل کرکے مسلسل تیسری فتح اور سیریز کے فائنل میں جگہ بنانے کی کوشش کرے گی۔ اس میچ میں فتح قومی ٹیم کی فائنل تک رسائی یقینی بنا دے گی۔
گلابی کٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت
چھاتی کے سرطان سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیے پاکستانی کھلاڑی اس میچ میں گلابی کٹ پہن کر میدان میں اترے۔ اس اقدام کا مقصد بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص، علاج اور اس مرض کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کرنا ہے۔
اب تمام تر توجہ پاکستان کی بیٹنگ پر مرکوز ہے، جہاں قومی ٹیم کو فائنل میں جگہ پکی کرنے کے لیے 242 رنز کا ہدف حاصل کرنا ہوگا۔
