نیوز ڈیسک
واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ایک بار پھر ناروے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس ملک سے آنے والے تارکین وطن کو امریکا میں خوش آمدید نہیں کہنا چاہتے۔ ان کے اس بیان نے ایک مرتبہ پھر امیگریشن پالیسی، عالمی سفارتی تعلقات اور نوبیل امن انعام کے حوالے سے ان کے مؤقف کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ٹرمپ نے اتوار 25 اکتوبر کو ریاست مشی گن کے شہر پورٹ ہورون میں ایک سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ناروے کے لیے توہین آمیز زبان استعمال کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوبیل امن انعام نہ ملنے کی وجہ سے وہ ناروے کے شہریوں کی امریکا آمد کے حق میں نہیں ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ چونکہ انہیں نوبیل امن انعام نہیں دیا گیا، اس لیے وہ ناروے سے آنے والے افراد کو امریکا میں نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کے اس بیان کو امیگریشن کے معاملے پر ان کے سخت مؤقف اور انعام کے حصول میں ناکامی پر ناراضی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے امیگریشن کو فرانس میں حالیہ بدامنی سے بھی جوڑتے ہوئے کہا کہ وہ بعض ممالک سے آنے والے تارکین وطن کا خیرمقدم کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم ناروے کے شہریوں کے معاملے میں ان کا رویہ مختلف ہے۔ انہوں نے ناروے کے بارے میں انتہائی نامناسب الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں آئندہ ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ ان کے بیانات میں امیگریشن اور دیگر ممالک سے تعلقات جیسے موضوعات نمایاں اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ ناروے سے متعلق تازہ بیان نے نوبیل امن انعام کے معاملے کو بھی سیاسی بحث میں شامل کر دیا ہے۔
نوبیل امن انعام اور ناروے کا کردار
واضح رہے کہ نوبیل امن انعام دینے کا فیصلہ ناروے کی نوبیل کمیٹی کرتی ہے، جس کا صدر دفتر دارالحکومت اوسلو میں واقع ہے۔ تاہم، انعام کے فیصلے کو ناروے کی حکومت کا براہ راست فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ کمیٹی انعام یافتگان کے انتخاب کا ذمہ دار ادارہ ہے۔
ٹرمپ اس ماہ کے آغاز میں بھی نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ناروے کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ اس وقت انہوں نے انعام نہ دیے جانے کو ناروے پر ایسا داغ قرار دیا تھا جو کبھی نہیں مٹے گا۔ تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انعام کے معاملے پر ان کی ناراضی اب بھی برقرار ہے۔
اس کے باوجود، فی الحال ایسی کوئی علامت سامنے نہیں آئی کہ امریکی حکومت نے ناروے کے شہریوں کی امریکا آمد یا ان کی امیگریشن کے حوالے سے کوئی نئی سرکاری پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہو۔ چنانچہ ٹرمپ کے سیاسی خطاب میں کیے گئے اعلان اور حکومت کی باضابطہ پالیسی کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
ٹرمپ کے متنازع بیانات اور ناروے کی معاشی حیثیت
امریکی صدر ماضی میں بھی ہیٹی، لیبیا، صومالیہ اور یمن سمیت متعدد ممالک کے بارے میں توہین آمیز زبان استعمال کر چکے ہیں۔ ان کے ایسے بیانات اکثر امیگریشن، قومی شناخت اور امریکا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات سے متعلق وسیع تر بحث کو جنم دیتے ہیں۔
دوسری جانب، ناروے دنیا کے خوش حال اور زیادہ آمدنی والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعداد و شمار کے مطابق، فی کس مجموعی ملکی پیداوار کے اعتبار سے بھی ناروے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔
ناروے کے خودمختار دولت فنڈ نے 2026 کی پہلی ششماہی میں 1.75 ٹریلین نارویجین کرون، یعنی تقریباً 184.3 ارب ڈالر کا ریکارڈ منافع حاصل کیا تھا۔ یہ اعداد و شمار ناروے کی مضبوط معاشی حیثیت کو نمایاں کرتے ہیں، جس کے تناظر میں ٹرمپ کی جانب سے اس ملک کے خلاف سخت زبان کا استعمال مزید توجہ حاصل کر رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، ناروے کی وزارت خارجہ اور ناروے کی نوبیل کمیٹی کے ایک نمائندے نے معمول کے دفتری اوقات سے باہر تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔
ٹرمپ کے تازہ بیان نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا نوبیل امن انعام سے متعلق ان کی ناراضی محض سیاسی بیان بازی تک محدود رہے گی یا اس کا اثر امریکا اور ناروے کے تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے کسی عملی حکومتی اقدام کی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

[…] انتخابی مہم لولا کے لیے آسان نہیں تھی۔ انہیں مہنگائی، بدعنوانی کے […]