نیوز ڈیسک
برازیلیا: برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے صدارتی انتخابات میں ڈرامائی کامیابی حاصل کرتے ہوئے چوتھی بار اقتدار تک پہنچنے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔
انتخابی حکام کے مطابق لولا نے سابق صدر ژائیر بولسونارو کے بڑے بیٹے اور سینیٹر فلیویو بولسونارو کو 40 لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ اس کامیابی کو لاطینی امریکا میں دائیں بازو کی سیاسی قوتوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، 80 سالہ لولا دا سلوا کی کامیابی ان کے طویل سیاسی سفر میں ایک اور اہم موڑ ہے۔ وہ اس سے قبل 2003 سے 2011 تک دو مرتبہ برازیل کے صدر رہ چکے ہیں، جبکہ 2022 کے انتخابات میں بھی انہوں نے ژائیر بولسونارو کو شکست دے کر اقتدار میں واپسی کی تھی۔
حالیہ انتخابی مہم لولا کے لیے آسان نہیں تھی۔ انہیں مہنگائی، بدعنوانی کے الزامات اور معاشی حالات سے متعلق عوامی خدشات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم فلاحی پالیسیوں، غریب طبقے کی حمایت اور بہتر ووٹر ٹرن آؤٹ نے ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
فراہم کردہ انتخابی اعداد و شمار کے مطابق لولا نے 51.75 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ فلیویو بولسونارو کو 48.25 فیصد ووٹ ملے۔
انتخابی نتائج پر تنازع کے خدشات
انتخابی مہم کے دوران فلیویو بولسونارو نے ابتدائی مرحلے میں برتری حاصل کی تھی، تاہم دوسرے مرحلے میں لولا نے انہیں شکست دے دی۔
فلیویو نے نتائج تسلیم کرنے کے بجائے انہیں کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں اتوار کے روز ووٹنگ کا وقت دو گھنٹے بڑھایا گیا تھا۔
اس اعلان کے بعد انتخابی نتائج کے حوالے سے تنازع پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نتائج منسوخ ہونے کے امکانات کم ہیں۔
فلیویو کی شکست کا فرق ان کے والد ژائیر بولسونارو کو 2022 میں ہونے والی شکست کے فرق سے بھی زیادہ بتایا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ فلیویو کی انتخابی مہم نے بھی جنوبی برازیل میں بارشوں کے باعث ووٹنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست کی تھی۔
لاطینی امریکا کے امور کے تجزیہ کار ماریو براگا نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کے مطابق انتخابی نتائج تبدیل ہونے کا امکان انتہائی کم ہے۔
دوسری جانب، لولا کی حمایت کرنے والی بائیں بازو کی رکن پارلیمنٹ اریکا ہلٹن نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں ایک مدبر رہنما اور عظیم شخصیت قرار دیا۔
فلاحی پالیسیاں اور غریب طبقے کی حمایت
لولا دا سلوا کی کامیابی میں ان کی فلاحی پالیسیوں اور کم آمدنی والے طبقوں کی مدد کے وعدوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے غربت اور آمدنی میں عدم مساوات کم کرنے کے لیے اپنی حکومت کی کوششوں کو نمایاں کیا۔
لولا کا مؤقف رہا ہے کہ ان کے سابقہ دورِ حکومت میں بے روزگاری، ناخواندگی اور جنگلات کی کٹائی میں نمایاں کمی آئی۔ انہوں نے انتخابی مہم میں خبردار کیا تھا کہ اگر فلیویو بولسونارو اقتدار میں آئے تو فلاحی اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں، جس سے سماجی شعبے میں ہونے والی پیش رفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
لولا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور اس بات پر زور دیا کہ برازیل کی خودمختاری کا تحفظ ضروری ہے۔ ان کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا جب لاطینی امریکا میں واشنگٹن کے اثر و رسوخ اور خطے کی سیاسی سمت پر بحث جاری ہے۔
لاطینی امریکا کی سیاست پر ممکنہ اثرات
لولا کی کامیابی کو خطے میں دائیں بازو کی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کے لیے ایک اہم دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ لاطینی امریکا میں ایسے رہنماؤں کے ساتھ قریبی تعلقات کو فروغ دیتی رہی ہے جو واشنگٹن کی سلامتی اور نقل مکانی سے متعلق پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
اس تناظر میں لولا کی کامیابی برازیل کی داخلی سیاست سے آگے بڑھ کر علاقائی سفارتی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے عملی اثرات کا انحصار آنے والے دنوں میں برازیل کی حکومت کی پالیسیوں اور خطے کے دیگر ممالک کے ردعمل پر ہوگا۔
انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں لولا نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے متعدد وعدے کیے۔ ان میں ہفتہ وار تعطیلات کے دوران ملک بھر میں مفت پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جسے باقاعدہ منظوری کے لیے کانگریس میں پیش کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ ان کے ایک اہم فلاحی پروگرام میں 15 فیصد اضافے کا اعلان بھی کیا گیا، جس پر عمل درآمد شروع ہونے کی اطلاع ہے۔
لولا نے مزدوروں کے حقوق سے متعلق آئینی ترمیم کی حمایت بھی کی، جسے کئی دہائیوں میں برازیل کی بڑی مزدور اصلاحات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس ترمیم کو کانگریس میں وسیع حمایت حاصل ہوئی، تاہم اس کے مستقبل اور عملی اثرات کا انحصار قانون سازی اور حکومتی اقدامات پر ہوگا۔
لولا کو بڑے چیلنجز کا سامنا
انتخابی کامیابی کے باوجود لولا دا سلوا کی چوتھی مدتِ صدارت سیاسی اعتبار سے مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔ برازیل میں جمہوریت کی بحالی کے بعد منتخب ہونے والی سب سے زیادہ قدامت پسند کانگریس ان کے سامنے ہوگی، جس کے باعث حکومتی اصلاحات اور فلاحی منصوبوں کی منظوری ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
فلیویو بولسونارو کی لبرل پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں ایوانِ زیریں میں 280 سے زائد نشستیں اور سینیٹ میں 50 تک نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔ اگر یہ قوت پارلیمان میں برقرار رہی تو حکومت کو قانون سازی، بجٹ کی منظوری اور دیگر اہم فیصلوں میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یوں لولا دا سلوا کی انتخابی کامیابی ایک طرف ان کی سیاسی مقبولیت اور فلاحی ایجنڈے کی تائید سمجھی جا رہی ہے، تو دوسری طرف یہ کامیابی برازیل میں نظریاتی تقسیم کے خاتمے کی ضمانت نہیں۔ آنے والے برسوں میں ان کی حکومت کی کامیابی کا انحصار معاشی مسائل سے نمٹنے، سماجی وعدوں کو پورا کرنے اور ایک منقسم سیاسی نظام میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی صلاحیت پر ہوگا۔
