نیوز ڈیسک
راولپنڈی: پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ میں جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کا نام ایک ایسے آرمی چیف کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے جنہوں نے 1993 کے شدید آئینی بحران کے دوران صدر اور وزیرِ اعظم کے درمیان جاری کشمکش کے خاتمے اور نئے انتخابات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پیر کے روز راولپنڈی میں ان کے انتقال کے ساتھ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم عہد اختتام پذیر ہو گیا۔
جنرل کاکڑ کا دورِ سربراہی ایسے وقت میں آیا جب ملک کی سیاسی قیادت کے درمیان اختیارات کی جنگ نے نظامِ حکومت کو مفلوج کر دیا تھا۔
ان کی شخصیت اور عسکری قیادت کا سب سے نمایاں پہلو یہی تھا کہ انہوں نے اس بحران میں مداخلت کرتے ہوئے ایک ایسے سیاسی سمجھوتے کی راہ ہموار کی جس کے نتیجے میں صدر غلام اسحاق خان اور وزیرِ اعظم نواز شریف دونوں کو اپنے عہدوں سے الگ ہونا پڑا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر اور پاک فوج کے افسران و جوانوں نے جنرل کاکڑ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی عسکری خدمات، قیادت اور مسلح افواج کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی ان کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور سوگوار خاندان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
بلوچستان سے فوج کی اعلیٰ ترین قیادت تک کا سفر
جنرل عبدالوحید کاکڑ 23 مارچ 1937 کو بلوچستان کے شہر ژوب میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1956 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور 1959 میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ ان کا عسکری کیریئر کئی دہائیوں پر محیط رہا، جس دوران انہوں نے مختلف کمانڈ اور اسٹاف عہدوں پر خدمات انجام دیں۔
1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں شرکت نے ان کے پیشہ ورانہ تجربے میں اہم اضافہ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے عسکری تربیت اور پیشہ ورانہ تعلیم کے مختلف مراحل مکمل کیے اور فوج میں متعدد اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔
ان کی نمایاں تعیناتیوں میں کوئٹہ میں 12 کور کی کمان، 16ویں انفنٹری ڈویژن کی قیادت اور جنرل ہیڈکوارٹرز میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے فرائض شامل تھے۔
12 جنوری 1993 کو انہیں پاکستان کا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا گیا۔ اس تقرری میں انہیں بعض سینئر افسران پر ترجیح دی گئی، جس نے اس وقت توجہ حاصل کی۔ تاہم، چند ہی ماہ بعد ملک کو درپیش سیاسی بحران نے ان کی قیادت کو قومی سطح پر نمایاں کر دیا۔
کاکڑ فارمولا اور 1993 کا آئینی بحران
جنرل کاکڑ کی سیاسی میراث کا سب سے اہم باب 1993 کا وہ بحران ہے جس نے پاکستان کے جمہوری اور آئینی نظام کو ایک بڑے امتحان سے دوچار کیا۔
اس وقت صدر غلام اسحاق خان اور وزیرِ اعظم نواز شریف کے درمیان اختیارات اور حکومتی معاملات پر اختلافات شدت اختیار کر چکے تھے۔
اپریل 1993 میں صدر نے آئین کے آرٹیکل 58(2)(b) کے تحت نواز شریف کی حکومت برطرف کر دی۔ تاہم، جولائی میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت بحال کر دی، جس کے بعد دونوں عہدوں کے درمیان محاذ آرائی مزید سنگین ہو گئی۔
اس صورتِ حال میں جنرل کاکڑ نے مفاہمت کے لیے کردار ادا کیا۔ بالآخر ایک سیاسی سمجھوتے کے تحت صدر غلام اسحاق خان اور وزیرِ اعظم نواز شریف دونوں اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔ اس پیش رفت نے سیاسی تعطل ختم کرنے اور نئے عام انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار کی۔
بعد ازاں بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں واپس آئی اور وہ دوبارہ وزیرِ اعظم بنیں۔
اس بحران میں جنرل کاکڑ کے کردار کو عموماً ’کاکڑ فارمولا‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی نتیجہ یہ تھا کہ سیاسی محاذ آرائی کا اختتام دونوں مرکزی عہدے داروں کی رخصتی اور نئے انتخابات کے ذریعے اقتدار کی منتقلی پر ہوا۔
تاہم، یہ واقعہ پاکستان میں سویلین حکومتوں اور عسکری قیادت کے باہمی تعلقات پر ایک اہم سوال بھی چھوڑ گیا: سیاسی بحرانوں کے حل میں فوج کا کردار کہاں تک ہونا چاہیے؟
عسکری خدمات اور دفاعی صلاحیتوں کا فروغ
جنرل کاکڑ کا کیریئر صرف سیاسی بحران تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے فوج کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیں اور بطور آرمی چیف پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی کوششوں کے دور میں قیادت کی۔
ان کے دور میں پاکستان کے میزائل پروگرام سمیت دفاعی منصوبوں پر کام جاری رہا۔ ’شاہین‘ میزائل منصوبہ بھی اسی وسیع تر دفاعی تناظر کا حصہ تھا، جس کا مقصد ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا تھا۔
ستمبر 1995 میں ایک مبینہ سازش بھی سامنے آئی، جس میں بعض فوجی افسران اور ایک انتہا پسند گروہ کے افراد کے ملوث ہونے کی اطلاعات تھیں۔ حکام کے مطابق، اس سازش کا ہدف جنرل کاکڑ اور اس وقت کی وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کو قتل کرنا تھا۔ منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا اور اس میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
یہ واقعہ اس دور کے پیچیدہ سیکیورٹی ماحول اور ریاستی اداروں کو درپیش خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔
عہدے سے سبک دوشی اور خاموش زندگی
جنرل عبدالوحید کاکڑ نے 1996 میں اپنی تین سالہ مدت مکمل ہونے پر آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، انہوں نے ملازمت میں توسیع کی پیشکش قبول نہیں کی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ زیادہ تر عوامی اور سیاسی سرگرمیوں سے دور رہے اور راولپنڈی میں نسبتاً نجی زندگی گزاری۔
دیگر کئی سابق فوجی سربراہان کے برعکس، انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی منظرنامے میں نمایاں کردار ادا کرنے کے بجائے خاموشی کو ترجیح دی۔ اسی وجہ سے ان کے بعد کے برسوں کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات بھی نسبتاً محدود رہیں۔
ایک میراث، کئی سوالات
جنرل عبدالوحید کاکڑ کی میراث کا جائزہ لیا جائے تو ان کی شخصیت پاکستان کی عسکری تاریخ اور جمہوری ارتقا کے ایک اہم موڑ سے جڑی دکھائی دیتی ہے۔
ایک طرف وہ ایک تجربہ کار فوجی افسر تھے جنہوں نے مختلف جنگوں اور اہم کمانڈ عہدوں پر خدمات انجام دیں، تو دوسری جانب ان کا نام اس سیاسی بحران کے حل سے وابستہ ہے جس نے 1993 میں ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت کو اپنے عہدوں سے الگ ہونے پر مجبور کر دیا۔
ان کے حامی اس کردار کو ایک بڑے آئینی تعطل کے خاتمے اور انتخابات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں، جب کہ اس واقعے کا وسیع تر سیاسی تناظر پاکستان میں سویلین بالادستی اور عسکری مداخلت کی بحث کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
جنرل کاکڑ کی زندگی اور کیریئر اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں فوجی قیادت کا کردار محض دفاعی معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ کئی مواقع پر اس نے ملک کی سیاسی سمت پر بھی اثر ڈالا ہے۔
ان کے انتقال کے بعد ان کی عسکری خدمات کے ساتھ 1993 کا بحران بھی ایک بار پھر زیرِ بحث آئے گا۔
ان کی تاریخی اہمیت کا تعین کرتے ہوئے یہ دونوں پہلو سامنے رکھنا ضروری ہے: ایک پیشہ ور فوجی افسر کی حیثیت سے ان کی خدمات اور ایک ایسے دور میں ان کا کردار جب پاکستان کا آئینی و سیاسی نظام شدید دباؤ کا شکار تھا۔
ویکیپیڈیا سے اضافی معلومات شامل کی گئی ہیں۔
