نیوز ڈیسک
یروشلم: اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کو ابتدائی انتخابی جائزوں میں پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے، جس کے بعد ان کے سیاسی مستقبل اور آئندہ حکومت کی تشکیل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 12 کے ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق، نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی پارلیمنٹ کی سب سے بڑی انفرادی جماعت بن کر سامنے آ سکتی ہے، تاہم ان کے اتحادیوں کی مجموعی نشستیں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت سے کم رہنے کا امکان ہے۔
ان تخمینوں کے مطابق، نیتن یاہو کے اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ میں تقریباً 52 نشستیں مل سکتی ہیں، جبکہ اپوزیشن بلاک کے حصے میں 49 نشستیں آنے کا اندازہ ہے۔
حکومت سازی کے لیے 61 نشستیں درکار
اسرائیلی پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت کے لیے کم از کم 61 نشستیں ضروری ہیں۔ ابتدائی انتخابی جائزوں کے مطابق، کوئی بھی سیاسی بلاک اس حد تک پہنچتا دکھائی نہیں دیتا، جس کے باعث حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات اہم ہو گئے ہیں۔
نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کو تقریباً 27 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، سابق فوجی سربراہ اور اپوزیشن رہنما گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم اتحاد کو 21 سے 22 نشستیں ملنے کا تخمینہ ہے۔
اس صورت حال میں دونوں جانب کے رہنماؤں کو حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اگر کسی بھی فریق نے مطلوبہ پارلیمانی حمایت حاصل نہ کی تو اسرائیل میں سیاسی تعطل طول پکڑ سکتا ہے اور نئے انتخابات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
ریکارڈ ووٹنگ، مگر سیاسی تقسیم برقرار
سینٹرل الیکشن کمیٹی کے مطابق، تقریباً 73 لاکھ اہل ووٹرز میں سے 57 لاکھ سے زائد نے انتخابات میں حصہ لیا، جس سے ووٹنگ کی شرح 77.7 فیصد رہی۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، یہ 1999 کے بعد ووٹرز کی شرکت کی بلند ترین شرح ہے۔
سیکیورٹی خدشات اور سیاسی بے چینی کے ماحول میں ہونے والے انتخابات میں ووٹرز کی نمایاں شرکت کے باوجود، ابتدائی نتائج سیاسی جماعتوں کے درمیان واضح اکثریت کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
عرب جماعتوں کا ممکنہ کردار
ابتدائی تخمینوں میں عرب سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی نمائندگی میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ جوائنٹ لسٹ اور رام سمیت عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر تقریباً 19 نشستیں ملنے کا اندازہ ہے، جس سے حکومت سازی کے مذاکرات میں ان کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔
تاہم، نیتن یاہو عرب جماعتوں کے ساتھ سیاسی شراکت داری کے امکان کو مسترد کر چکے ہیں۔ یروشلم میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنے اتحاد کی متوقع نشستوں میں کمی کا اعتراف کیا، لیکن دعویٰ کیا کہ انہیں اب بھی صہیونی اور یہودی عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے عرب جماعتوں کو ’’صہیونیت مخالف‘‘ بھی قرار دیا۔
دوسری جانب، گاڈی آئزن کوٹ نے ابتدائی نتائج کو سیاسی تبدیلی کے لیے عوامی حمایت سے تعبیر کیا۔ تاہم، اپوزیشن کو بھی حکومت بنانے کے لیے مختلف جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگی، کیونکہ اس کے متوقع نشستوں کی تعداد بھی سادہ اکثریت سے کم ہے۔
نیتن یاہو کا اقتدار میں رہنا کس پر منحصر ہے؟
اسرائیل میں انتخابی نتائج حتمی ہونے کے بعد صدر اس سیاسی رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں امکان ہو کہ وہ پارلیمنٹ میں مطلوبہ حمایت حاصل کر سکتا ہے۔ نامزد رہنما کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرکے کم از کم 61 ارکان کی حمایت یقینی بنانا ہوتی ہے۔
اگر نیتن یاہو اور اپوزیشن کے رہنما دونوں مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور کوئی متبادل امیدوار بھی حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوتا تو نئے انتخابات کی نوبت آ سکتی ہے۔
فی الحال، ابتدائی ایگزٹ پولز نیتن یاہو کے اتحاد کے لیے مشکلات کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن ان کی سیاسی پوزیشن کا حتمی تعین سرکاری نتائج اور اتحادی مذاکرات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
آنے والے دنوں میں چھوٹی جماعتوں کا کردار، اپوزیشن کا باہمی تعاون اور حکومت سازی کے لیے ممکنہ معاہدے اسرائیل کی سیاسی سمت متعین کرنے میں اہم ثابت ہوں گے۔
