نیوز ڈیسک
جارجیا: امریکی ریاست جارجیا میں ڈیموکریٹک امیدوار کیشا لانس باٹمز نے گورنر کا انتخاب جیت کر تاریخ رقم کردی۔ وہ امریکا کی کسی بھی ریاست کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون بن گئی ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اٹلانٹا کی سابق میئر کیشا لانس باٹمز نے ری پبلکن امیدوار اور ارب پتی کاروباری شخصیت رک جیکسن کو شکست دے دی۔ 56 سالہ باٹمز جارجیا کی پہلی خاتون گورنر بھی ہوں گی اور جنوری 2027ء میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق باٹمز کی کامیابی کے نتیجے میں جارجیا میں ری پبلکن جماعت کی دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط حکمرانی کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے۔ ریاست میں آخری ڈیموکریٹک گورنر 2003ء میں عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے۔
کیشا لانس باٹمز 2018ء سے 2022ء تک اٹلانٹا کی میئر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ بعد ازاں وہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں سینئر مشیر اور وائٹ ہاؤس کے دفتر برائے عوامی رابطہ کاری کی سربراہ بھی رہیں۔
انتخاب میں شکست سے دوچار ہونے والے رک جیکسن صحت کے شعبے میں افرادی قوت فراہم کرنے والی کمپنی جیکسن ہیلتھ کیئر کے بانی ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹیکسوں میں کمی، عوامی تحفظ کو بہتر بنانے اور حکومتی ضابطوں کو محدود کرنے پر توجہ مرکوز رکھی تھی۔
ادھر امریکی سیاست میں اسی روز ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں اسٹیسی پلاسکٹ امریکی علاقے ورجن آئی لینڈ کی گورنر منتخب ہوگئیں۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ کسی امریکی دائرہ اختیار کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون بن گئی ہیں۔
دوسری جانب ریاست فلوریڈا میں ری پبلکن امیدوار اور رکن کانگریس بائرن ڈونلڈز نے گورنر کا انتخاب جیت لیا۔ وہ امریکا کی کسی ریاست کے گورنر منتخب ہونے والے پہلے سیاہ فام ری پبلکن رہنما بن گئے ہیں۔
واضح رہے کہ کیشا لانس باٹمز کی تاریخی کامیابی سے قبل 2018ء میں ڈیموکریٹ رہنما اسٹیسی ابرامز کسی بڑی امریکی سیاسی جماعت کی جانب سے گورنر کے عہدے کے لیے نامزد ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون بنی تھیں۔ وہ 2018ء اور 2022ء میں جارجیا کے گورنر کا انتخاب ہار گئی تھیں، تاہم ان کی انتخابی مہم نے ریاست میں ڈیموکریٹک جماعت کے ووٹ بینک کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
