امریکی انتخابات میں شکست، ریپبلکنز کا سارا ملبہ ٹرمپ پر ڈال دیا

0

نیوز ڈیسک

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد پارٹی کے اندر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت، پالیسیوں اور سیاسی حکمت عملی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ 

ریپبلکن رہنماؤں نے انتخابی ناکامی کا ذمہ دار براہ راست صدر ٹرمپ کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے ان کی پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے۔

انتخابی نتائج کے بعد نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے نتائج کو مکمل طور پر تسلیم کرنے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتیں ممکنہ طور پر مشترکہ نکات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔

تاہم، صدر ٹرمپ کے اس مفاہمتی مؤقف کے برعکس ان کے سوشل میڈیا بیانات میں انتخابی شکست کا ذمہ دار پارٹی رہنماؤں اور میڈیا کو قرار دیا گیا۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’تھروتھ سوشل‘ پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اب سیاسی مبصر کی حیثیت سے امیدواروں کی کامیابی اور ناکامی پر تبصرہ کریں گے۔ انہوں نے ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر وہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران حقیقی معنوں میں ریپبلکن مؤقف پر قائم رہتے تو انتخابی شکست سے بچ سکتے تھے۔

صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ چینل ڈیموکریٹ رہنماؤں کو ضرورت سے زیادہ کوریج دے رہا ہے۔ انہوں نے ’ویٹو‘ تحریر والی سرخ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی، جسے ڈیموکریٹس کے زیرِ اثر آنے والی آئندہ کانگریس کی قانون سازی روکنے کے عزم سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی انتخابی ناکامی کی وضاحت کرتے ہوئے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ اگر ان کا نام بیلٹ پیپر پر ہوتا تو ریپبلکن پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتی۔

دوسری جانب ریپبلکن قیادت کے اندر انتخابی نتائج پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں اور سیاسی حکمتِ عملی سازوں نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھونے کو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور قیادت کی ناکامی قرار دیا ہے۔

ڈیموکریٹس نے ٹیکساس، جنوبی کیرولائنا، آئیووا اور اوہائیو سمیت ان ریاستوں میں اہم نشستیں حاصل کی ہیں جہاں ریپبلکنز طویل عرصے سے مضبوط سیاسی پوزیشن رکھتے تھے۔ ان کامیابیوں نے امریکی سیاست میں ڈیموکریٹس کی واپسی اور ریپبلکنز کے لیے بڑھتے ہوئے انتخابی چیلنجز کو نمایاں کر دیا ہے۔

ٹیکساس کے معروف ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے شکست کی تمام تر ذمہ داری صدر ٹرمپ پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج دراصل ووٹرز کی جانب سے صدر کو مکمل طور پر مسترد کیے جانے کا اظہار ہیں۔

ریپبلکن حلقوں کے مطابق ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت، متنازع انتظامی فیصلوں، غیر مقبول پالیسیوں اور مہنگائی سے متعلق عوامی خدشات کو نظر انداز کرنے کے رویے نے پارٹی کی انتخابی پوزیشن کمزور کی۔

منیسوٹا کے ریپبلکن سیاسی حکمتِ عملی ساز گریگ پیپن نے بھی انتخابی مہم کو غلطیوں کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ریاستوں میں ووٹرز نے صدر کی پالیسیوں کے خلاف اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

انتخابی نتائج کے بعد ریپبلکن پارٹی کو اب نہ صرف کانگریس میں اپنی سیاسی پوزیشن کے نقصان کا سامنا ہے بلکہ پارٹی کے اندر ٹرمپ کی قیادت اور مستقبل کی انتخابی حکمت عملی پر بھی نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.