عاصم مصطفیٰ اعوان
اسلام آباد: گلیوں اور بازاروں میں ہونے والے ایسے مظاہرے، جو راہ گیروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے ہیں، بظاہر محض تفریح کا ذریعہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے پس منظر میں علم، صبر، تجربے اور روزگار کی جدوجہد کی ایک ایسی دنیا پوشیدہ ہے جسے معاشرہ شاذ و نادر ہی تسلیم کرتا ہے۔
جانوروں کے ساتھ کرتب دکھانے والے یہ افراد اپنے جانوروں، سامان اور برسوں کے تجربے کو سمیٹ کر روزانہ ایک گلی سے دوسری گلی کا سفر کرتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی مستقل جائے روزگار ہوتی ہے، نہ محفوظ آمدنی اور نہ ہی اکثر کوئی مستقل رہائش۔ بعض دنوں کی کمائی ان کے اپنے اور جانوروں کے کھانے پینے کے اخراجات پورے کردیتی ہے، جب کہ بعض اوقات بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔
تصویر میں نظر آنے والا شخص لاہور کی سڑکوں پر ایک بکری، ایک کتے اور دو بندروں کے ساتھ موجود ہے۔ اس کے لیے یہ جانور محض ساتھ چلنے والے جاندار نہیں بلکہ اس کے روزگار کا اہم ذریعہ ہیں۔
ان جانوروں کے ذریعے کرتب دکھا کر وہ روزی کماتا ہے، تاہم ان کی دیکھ بھال، تربیت، رویوں کو سمجھنے اور انہیں قابو میں رکھنے کی صلاحیت برسوں کے عملی تجربے کا نتیجہ ہے۔ یہ ایسا خصوصی ہنر ہے جو صبر، مسلسل مشاہدے اور جانوروں کے ساتھ قریبی تعلق کے ذریعے پروان چڑھتا ہے۔
اس کے باوجود جانوروں کے یہ روایتی ہینڈلرز معاشرے کے نظر انداز کیے جانے والے محنت کش طبقے میں شامل ہیں۔ ان کی مہارت کو پیشہ ورانہ صلاحیت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، جس کے باعث ان کا تجربہ اور روایتی علم نئی نسلوں تک منتقل ہونے کے بجائے بتدریج معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
پاکستان میں جانوروں کو سنبھالنے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے تربیت یافتہ افراد کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے سنگین نتائج پہلے بھی سامنے آچکے ہیں۔ 2020ء میں اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر سے جانوروں کی منتقلی کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے دوران ناتجربہ کار عملے نے شیروں کو ٹرانسپورٹ کے پنجروں میں منتقل کرنے کے لیے ان کے پنجرے میں آگ لگا دی تھی۔
اس واقعے کے نتیجے میں دونوں شیروں کو جھلسنے اور دھوئیں سے متاثر ہونے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث وہ ہلاک ہوگئے۔ واقعے کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی اور جانوروں کی دیکھ بھال اور انہیں سنبھالنے کے انتظامات میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کیا۔
اسی چڑیا گھر میں 35 سال تک قید میں رہنے والے ہاتھی کاون کی حالت زار بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی۔ طویل تنہائی اور نامناسب حالات میں زندگی گزارنے والے کاون کی مشکلات کے باعث بین الاقوامی سطح پر اس کی منتقلی کے لیے آواز اٹھائی گئی، جس کے نتیجے میں نومبر 2020ء میں اسے کمبوڈیا کے ایک ہاتھیوں کے پناہ گاہ منتقل کردیا گیا۔
یہ واقعات جنگلی حیات، لائیو اسٹاک اور جانوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق سرکاری اداروں کے لیے اپنے طریقہ کار پر نظرثانی کا ایک اہم موقع فراہم کرتے ہیں۔ تجربہ کار جانوروں کے ہینڈلرز کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کی عملی مہارتوں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے اور انہیں جانوروں کے ریسکیو، دیکھ بھال، بحالی اور فلاح و بہبود کے منصوبوں میں باقاعدہ مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں۔
مناسب تربیت، انسانی اور پیشہ ورانہ معیارات اور مؤثر نگرانی کے ذریعے ان افراد کے برسوں پر محیط تجربے کو ایک مفید پیشہ ورانہ صلاحیت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
اس کا مقصد سڑکوں پر جانوروں سے کرتب دکھانے کے ہر عمل کا دفاع کرنا یا جانوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق خدشات کو نظر انداز کرنا نہیں، بلکہ عملی مہارت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے ذمہ دارانہ اور مثبت مقاصد کے لیے بروئے کار لانا ہے۔
ان افراد کو محض ہمدردی یا وقتی توجہ کی نہیں بلکہ باعزت روزگار، بنیادی تحفظ اور اپنے زندگی بھر کے تجربے کو ایک تسلیم شدہ پیشے میں تبدیل کرنے کے مواقع کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں عملی تجربے اور خصوصی مہارت رکھنے والے افراد کی کمی نہیں، اصل ضرورت ایسے نظام اور سوچ کی ہے جو ان کی صلاحیتوں کو پہچانے، ان کی قدر کرے اور انہیں معاشرے کے لیے ایک مفید اثاثہ بنانے کے مواقع فراہم کرے۔
فوٹو کریڈٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان
