نیوز ڈیسک
امریکی سیاست میں پاکستانی نژاد کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی سیاسی موجودگی نے ایک بار پھر توجہ حاصل کرلی ہے۔ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں پاکستانی نژاد امریکی امیدواروں نے مختلف ریاستوں کی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے ثابت کیا ہے کہ ان کی کمیونٹی اب صرف انتخابی سیاست کا حصہ نہیں بلکہ مقامی قانون سازی اور پالیسی سازی میں بھی اپنا کردار مضبوط بنا رہی ہے۔
منگل کو ہونے والے انتخابات کے اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق کم از کم چھ پاکستانی نژاد امریکی امیدوار ریاستی مقننہ کی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کامیابیوں میں کہیں سیاسی تسلسل دکھائی دیتا ہے تو کہیں نئی تاریخ رقم ہوتی نظر آتی ہے۔
ان انتخابی نتائج میں سب سے نمایاں پیش رفت کنیکٹیکٹ سے سامنے آئی، جہاں مریم خان ریاست کی پہلی مسلمان خاتون ریاستی سینیٹر منتخب ہوگئی ہیں۔ ان کی کامیابی نہ صرف پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی بلکہ امریکی سیاست میں خواتین اور مسلم نمائندگی کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہے۔
ڈیموکریٹ امیدوار مریم خان اس سے قبل چار سال تک ریاستی ایوانِ نمائندگان کی رکن رہ چکی ہیں۔ مارچ 2022 میں ضمنی انتخاب جیت کر وہ کنیکٹیکٹ کی ایوانِ نمائندگان کی پہلی مسلمان رکن منتخب ہوئی تھیں۔
پاکستان میں پیدا ہونے والی مریم خان 1994 میں امریکا منتقل ہوئی تھیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ٹیچر ہیں اور ہارٹ فورڈ کے سرکاری اسکولوں میں خصوصی تعلیمی ضروریات رکھنے والے بچوں کو پڑھاتی رہی ہیں۔
وہ ریاستی مقننہ کی خصوصی تعلیم سے متعلق سلیکٹ کمیٹی کی شریک سربراہ بھی ہیں، جبکہ ونڈسر بورڈ آف ایجوکیشن کی نائب صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔
کنیکٹیکٹ میں ہی ڈاکٹر سعود انور نے ریاستی سینیٹ کی نشست دوبارہ جیت کر اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ انہوں نے حلقہ سینیٹ 3 میں ری پبلکن امیدوار ایلیٹ ہیوز کو شکست دی۔
ڈاکٹر سعود انور 2019 میں ضمنی انتخاب جیتنے کے بعد سے ریاستی سینیٹ کے رکن ہیں اور صحتِ عامہ سے متعلق کمیٹی کے شریک سربراہ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔
پیشہ ورانہ اعتبار سے وہ پھیپھڑوں کے امراض اور انتہائی نگہداشت کے ماہر معالج ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ییل یونیورسٹی سے صحتِ عامہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
وہ تقریباً دو دہائیوں تک مانچسٹر میموریل اور راک ویل جنرل اسپتالوں میں شعبہ انٹرنل میڈیسن کے سربراہ بھی رہے
ٹیکساس میں پاکستانی نمائندگی کا تسلسل
ٹیکساس میں بھی پاکستانی نژاد امریکی سیاست دانوں نے اپنی انتخابی پوزیشن مستحکم رکھی ہے۔ ڈیموکریٹ امیدوار سلمان بھوجانی نے ریاستی ایوانِ نمائندگان کے حلقہ نمبر 92 سے دوبارہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے ری پبلکن امیدوار جے پی وُڈرف کو شکست دی۔ انہیں تقریباً 67 فیصد ووٹ ملے۔
پاکستان میں پیدا ہونے والے سلمان بھوجانی نوعمری میں ٹیکساس منتقل ہوئے تھے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔
اسی ریاست میں ڈاکٹر سلیمان لالانی بھی دوبارہ ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب ہوگئے ہیں۔ ڈیموکریٹ امیدوار نے اپنے حلقے میں تقریباً 67 فیصد ووٹ حاصل کرکے نشست برقرار رکھی۔
سلمان بھوجانی اور ڈاکٹر سلیمان لالانی نے نومبر 2022 میں پہلی مرتبہ ٹیکساس اسمبلی کا انتخاب جیتا تھا۔ دونوں کو ریاست کی 177 سالہ قانون ساز تاریخ میں پہلے مسلمان اور جنوبی ایشیائی ارکان کے طور پر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
پنسلوانیا اور جارجیا میں بھی کامیابیاں
پنسلوانیا میں ڈیموکریٹ امیدوار مریم صبیح نے ایوانِ نمائندگان کے حلقہ نمبر 131 کی نشست جیت لی۔ پاکستانی نژاد امریکی صحافی اور فری لانس مصنفہ مریم صبیح نے انتخابی مہم میں مقامی شہریوں کو درپیش معاشی، تعلیمی اور ماحولیاتی مسائل کو مرکزی اہمیت دی۔
لیہائی یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کرنے والی مریم صبیح الجزیرہ اور دی ہفنگٹن پوسٹ سمیت مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے لیے لکھتی رہی ہیں۔
ان کے انتخابی منشور میں بزرگ شہریوں اور مکان مالکان پر پراپرٹی ٹیکس کا بوجھ کم کرنے، اسلحے کے محفوظ استعمال سے متعلق قوانین متعارف کرانے، سرکاری تعلیم کے لیے فنڈنگ بڑھانے اور ڈیٹا سینٹرز کے توانائی استعمال کی نگرانی اور جواب دہی کو یقینی بنانے جیسے معاملات شامل تھے۔
ادھر ریاست جارجیا میں پاکستانی نژاد امریکی ڈیموکریٹ سیاست دان فاروق مغل نے بھی اپنی نشست دوبارہ جیت لی۔ انہوں نے ریاستی ایوانِ نمائندگان کے حلقہ نمبر 105 میں ری پبلکن امیدوار سینڈی ڈوناٹوچی کو شکست دی۔
فاروق مغل نومبر 2022 میں جارجیا کی مقننہ کے پہلے پاکستانی نژاد امریکی رکن منتخب ہوئے تھے۔ ان کی دوبارہ کامیابی ریاستی سیاست میں پاکستانی نژاد امریکی نمائندگی کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہے۔
کامیابیوں کا مطلب محض انتخابی فتح نہیں
ان چھ کامیابیوں کی اہمیت صرف انتخابی نتائج تک محدود نہیں۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی مختلف ریاستوں میں اپنی سماجی موجودگی کو سیاسی نمائندگی میں تبدیل کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔
ان امیدواروں کے انتخابی پس منظر اور پیشہ ورانہ تجربات بھی اس تبدیلی کی ایک دلچسپ تصویر پیش کرتے ہیں۔ کوئی تعلیم اور خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم رہا، کسی نے صحتِ عامہ کے شعبے میں خدمات انجام دیں، جبکہ دیگر امیدوار صحافت، قانون اور مقامی شہری مسائل سے وابستہ رہے ہیں۔
ان کی کامیابیوں سے پاکستانی نژاد امریکیوں کو ریاستی سطح پر قانون سازی، تعلیم، صحت، ٹیکس پالیسی اور عوامی وسائل سے متعلق فیصلوں میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
تاہم یہ واضح رہنا چاہیے کہ ان کامیابیوں کا تعلق امریکی وفاقی کانگریس سے نہیں بلکہ مختلف ریاستوں کی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان سے ہے۔
اس کے باوجود چھ پاکستانی نژاد امریکی امیدواروں کی کامیابی ایک ایسے سیاسی رجحان کی نشاندہی کرتی ہے جس میں تارکینِ وطن کمیونٹیز محض ووٹرز کی حیثیت سے نہیں بلکہ منتخب قانون سازوں کے طور پر بھی امریکی جمہوریت میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔
