نیوز ڈیسک
انقر: ترکی کی پارلیمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے اور اجتماعی سلامتی کے نظام کو مضبوط بنانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
ترک سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین فواد اوکتائے نے معاہدے کی منظوری کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اتحاد خالصتاً دفاعی مقاصد کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اور اس کا ہدف کسی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا نہیں۔
600 ارکان پر مشتمل ترک پارلیمان میں معاہدے کے حق میں 279 ووٹ آئے، جبکہ 119 ارکان نے مخالفت کی۔ جمعے کی صبح ہونے والی منظوری کے بعد معاہدہ نافذ العمل ہوگیا۔
اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کو درپیش خطرات کے تناظر میں اس معاہدے سے انقرہ کے لیے ریاض کو فوجی معاونت فراہم کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان اس دفاعی معاہدے پر 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں دستخط کیے گئے تھے۔ معاہدے کی تقریب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوغان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف شریک تھے۔
معاہدے کی بنیادی شق کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اجتماعی سلامتی، دفاعی تعاون اور علاقائی و عالمی امن و استحکام کے فروغ کو مشترکہ ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔
تینوں ممالک کے وزرائے دفاع اب تک استنبول اور ریاض میں دو اجلاس منعقد کر چکے ہیں، جبکہ معاہدے کے تحت اتحاد کا مستقل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔
ریٹائرڈ پاکستانی جنرل نعمان محمود کو اس اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے، جہاں وہ ممکنہ طور پر تین سالہ مدت کے لیے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
