اسلام آباد:اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک انتہائی قابلِ مذمت اور شرمناک حکمت عملی کا انکشاف ہوا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی ڈرونز غزہ کے کیمپوں سے فلسطینیوں کو باہر نکالنے کے لیے بچوں کے رونے کی آوازیں استعمال کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز کے کواڈ کاپٹر ڈرونز میں بچوں کے رونے اور پریشان خواتین کی آوازیں چلائی جاتی ہیں تاکہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے باہر نکال کر کھلے علاقوں میں لایا جا سکے، جہاں وہ آسانی سے اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن سکیں۔
انسانی حقوق کی کارکن ماہا حسینی نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اپریل کے وسط میں اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرونز سے غیر معمولی آوازیں سنی گئیں، جن میں بچوں یا خواتین کی چیخیں شامل تھیں۔
ماہا حسینی کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر غزہ کے نصیرات کیمپ کا دورہ کیا اور وہاں کے فلسطینیوں سے مختلف انٹرویوز کیے، جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اسرائیلی ڈرونز سے آنے والی ایسی آوازوں کا سامنا کر چکے ہیں۔
ان میں سے کچھ افراد نے بتایا کہ جب وہ ان آوازوں کو سن کر مدد کے لیے باہر نکلے، تو اسرائیلی فورسز نے انہیں نشانہ بنا لیا، جس کے نتیجے میں وہ یا تو ہلاک ہو گئے یا شدید زخمی ہوئے۔
مزید پرئیے:https://urdu.thepenpk.com/?p=5415
غزہ میں اسرائیلی قتلِ عام
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں قتلِ عام عالمی برادری کے لیے جاگنے کا لمحہ ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 296 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں غذا اور خوراک کی رسائی بھی روک دی ہے۔رپورٹ میں 9 مہینوں کے دوران جمع کیے گئے شواہد کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز اور حکومتی حکام نے اقوامِ متحدہ کے نسل کشی کنونشن کے تحت ممنوعہ 5 میں سے 3 کارروائیوں کا ارتکاب کیا ہے، جن میں فلسطینی شہریوں کا اجتماعی قتل بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اتنے شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں جو اس بات کا یقین کرنے کے لیے کافی ہیں کہ غزہ میں جنگ کے دوران اسرائیل کا طرزِ عمل فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کے مترادف ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اسرائیل بڑے پیمانے پر اندھا دھند فضائی اور زمینی حملوں، املاک اور انفراسٹرکچر کی تباہی، فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اور امداد کی راہ میں رکاوٹ کا ذمے دار ہے۔