نیوز ڈیسک
اسلام آباد: جمعرات کی شب یادگارِ الفتح کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی فوجی فتح کی علامت کو بھارت کے لیے ایک وسیع تر انتباہ سے جوڑتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کا پانی ایک ’’سرخ لکیر‘‘ ہے۔
سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان امن اور علاقائی استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اپنے اہم آبی مفادات کے لیے کسی بھی خطرے کو قومی سلامتی کا معاملہ سمجھتا ہے، جس کا براہِ راست جواب دیا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ بھارت کو صحیح راستے پر آنا چاہیے، بصورتِ دیگر اسے ’’سیدھا جواب‘‘ دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے۔
ان کے ریمارکس نے تقریب کے مرکزی پیغام کو نمایاں کیا: پاکستان کی قیادت کے مطابق اسلام آباد امن کا خواہاں ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور تزویراتی مفادات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ قوم یومِ آزادی یادگارِ الفتح کے سائے میں منا رہی ہے اور اسے ’’معرکۂ حق‘‘ میں پاکستان کی کامیابی سے تعبیر کیا۔ انہوں نے یادگار کو مسلح افواج کی برتری اور ملکی دفاع کی علامت قرار دیتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
شہباز شریف نے یادگار کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے صرف آٹھ ماہ میں مکمل کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان کی نئی یادگارِ الفتح ریاست کی جانب سے مسلح افواج، قومی اتحاد اور ملکی دفاع کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ تاہم اس کا افتتاح آبی سلامتی، خودمختاری، ڈیٹرنس، علاقائی امن اور فوجی تیاری کے مضبوط پیغامات کے ساتھ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یادگار کی معنویت محض بھارت کے ساتھ فوجی فتح کی یاد سے آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔
یادگارِ الفتح
پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر نصف شب اسلام آباد میں یادگارِ الفتح کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے مشترکہ طور پر اس کی نقاب کشائی کی۔
ایک خصوصی لائٹ اینڈ ساؤنڈ پریزنٹیشن میں پاکستان کی تاریخ اور عسکری سفر کے اہم ابواب پیش کیے گئے، جن میں حکومت کی جانب سے ’’معرکۂ حق‘‘ قرار دیے جانے والے واقعات بھی شامل تھے۔
یادگار پر 120,000 لومن ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے مستقل پروجیکشن میپنگ سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے۔ یہ نظام روشنی، موسیقی اور فنِ تعمیر کو یکجا کرتے ہوئے یادگار پر تاریخی اور عسکری موضوعات پیش کرتا ہے۔
تقریب میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنروں سمیت اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت، وزیر اعلیٰ پنجاب، وفاقی وزرا، ارکانِ پارلیمنٹ، سفارت کاروں، سینئر ججوں اور مسلح افواج کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
’’ہمارے فیلڈ مارشل‘‘
صدر آصف علی زرداری نے یادگارِ الفتح کو قومی اتحاد، مسلح افواج کی طاقت اور ملک کے لیے دی جانے والی قربانیوں کا مظہر قرار دیا۔
بھارت کے ساتھ تنازع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ’’معرکۂ حق‘‘ کے دوران بھارتی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا۔
عسکری قیادت کو سراہتے ہوئے صدر نے کہا: ’’جو انہیں اپنا فیلڈ مارشل کہتے ہیں، وہ دراصل ہمارا فیلڈ مارشل ہے۔‘‘
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کی کامیابی نے ملک کے وقار میں اضافہ کیا ہے اور خبردار کیا کہ مستقبل میں ملکی خودمختاری کو کسی بھی چیلنج کا اس سے بھی زیادہ مضبوط جواب دیا جائے گا۔
ایک وسیع تر سکیورٹی آؤٹ لک
یادگارِ الفتح کا افتتاح ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان کی مشرقی سرحد سے آگے اس کے وسیع تر تزویراتی مفادات پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
آبی تحفظ کے حوالے سے وزیر اعظم کی وارننگ نے سندھ طاس معاہدے کو قومی سلامتی کے وسیع تر فریم ورک میں لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا دیرینہ تنازع اب خودمختاری، تزویراتی سلامتی اور علاقائی استحکام کے سوالات سے بھی جڑتا جا رہا ہے۔
شہباز شریف نے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر بھی بات کی۔ انہوں نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، جبکہ افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے اسلام آباد کی خواہش کا بھی اعادہ کیا۔
مئی 2025 کے تنازع کی یاد
یادگارِ الفتح اس واقعے کی یاد بھی تازہ کرتی ہے جسے پاکستانی ریاست مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہونے والے تنازع کے دوران اپنی فتح قرار دیتی ہے۔
پاکستان کے سرکاری بیانیے کے مطابق، بھارت نے 6 اور 7 مئی کو بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ہونے والے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کے بعد فوجی کارروائی شروع کی، جس کے جواب میں پاکستان نے فوجی ردِعمل دیا۔
امریکی سفارتی مداخلت کے بعد 10 مئی کو جنگ بندی کے اعلان سے قبل یہ تنازع 80 گھنٹے سے زائد جاری رہا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے اس دوران متعدد بھارتی طیارے مار گرائے، جن میں رافیل لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ متعدد ڈرون بھی شامل تھے۔ اسلام آباد نے بعد ازاں ان نتائج کو اپنی فوجی صلاحیت کے مظاہرے اور خطے میں ایک ’’نیٹ سکیورٹی اسٹیبلائزر‘‘ کے طور پر پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہونے سے تعبیر کیا۔
یہ دعوے اور تشریحات یادگارِ الفتح کے مجموعی بیانیے کا حصہ ہیں، جس میں فوجی کامیابی کے ساتھ قومی خودمختاری، دفاعی تیاری، ڈیٹرنس اور پاکستان کے تزویراتی مفادات کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا ہے۔
