راولپنڈی: ضلعی انتظامیہ آئندہ سیاسی مظاہروں اور دھرنوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائش اور تعیناتی کے لیے کم از کم 48 مقامی اسکولوں کے استعمال کے معاملے پر آج تعلیمی اداروں کی ممکنہ بندش سے متعلق حتمی فیصلہ کرے گی۔
ذرائع کے مطابق متوقع سیاسی سرگرمیوں کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات کے تحت متعدد تعلیمی اداروں کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات پنجاب بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے وسیع تر سیکیورٹی انتظامات کا حصہ ہیں۔
اس صورتحال کے باعث راولپنڈی کے طلبہ اور والدین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ والدین اور تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی بندش یا تعلیمی سرگرمیوں میں اچانک تعطل سے طلبہ کے تعلیمی معمولات متاثر ہو سکتے ہیں۔
تعلیمی اسٹیک ہولڈرز نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ متاثرہ اسکولوں کے طلبہ اور والدین کو بروقت آگاہ کیا جائے تاکہ غیر ضروری سفر اور تعلیمی سرگرمیوں میں خلل سے بچا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ضلعی تعلیمی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں کا آج مشاورتی اجلاس متوقع ہے، جس میں سیکیورٹی ضروریات اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کا جائزہ لیا جائے گا۔
حتمی فیصلے کے بعد باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کی توقع ہے، جس میں بتایا جائے گا کہ نامزد اسکول عارضی طور پر بند رہیں گے یا طلبہ کے لیے متبادل تعلیمی انتظامات کیے جائیں گے۔
