یمن میں حوثیوں پر 1,292 حملے، 430 سے زائد جنگجو ہلاک ہونے کا دعویٰ

0

نیوز ڈیسک

صنعا: یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت آنے کے بعد سرکاری فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1,292 ٹارگٹڈ حملے کرنے اور 430 سے زائد حوثی جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے مطابق، ان کارروائیوں میں 100 سے زائد گاڑیاں اور دیگر فوجی سازوسامان بھی تباہ کیا گیا، جبکہ مآرب میں اہم اسٹریٹجک فوجی مقامات کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔

یمنی سرکاری فوج کے ترجمان کے مطابق، یہ حملے حوثی گروپ کے ٹھکانوں، گڑھوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائیوں کے نتیجے میں حوثیوں کی افرادی قوت اور عسکری صلاحیت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔

تاہم، ہلاکتوں، تباہ ہونے والے فوجی سازوسامان اور مآرب میں علاقوں پر قبضے سے متعلق ان دعوؤں کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ یمنی سرکاری افواج نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں رہنے والے شہریوں، بالخصوص والدین، کو اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے محتاط رہنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ فوج نے خاندانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو حوثی گروپ میں شامل ہونے سے روکیں، کیونکہ انہیں زبردستی بھرتی کیے جانے یا جنگجوؤں کی صفوں میں شامل کیے جانے کا خدشہ ہے۔

ترکیہ ٹوڈے (Türkiye Today) کے مطابق، یمنی فوج نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ان علاقوں میں نہ بھیجیں جہاں حوثی جنگجو لڑائی میں مصروف ہیں۔ اس اپیل سے یمن میں جاری تنازع کے دوران بچوں کی جبری بھرتی اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی نمایاں ہوتے ہیں۔

یمن میں بڑھتی ہوئی جھڑپیں

حوثی گروپ ستمبر 2014 سے دارالحکومت صنعا سمیت یمن کے کئی علاقوں پر قابض ہے۔ مارچ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے یمنی حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں، جس کے بعد ملک میں تنازع مزید پیچیدہ اور طویل ہو گیا۔

حالیہ عرصے میں یمن کے پہاڑی صوبے تعز میں بھی لڑائی میں شدت آنے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، گزشتہ ماہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی صوبے الحدیدہ سے تعز کی جانب حملے کیے، جس کے نتیجے میں جھڑپوں میں اضافہ ہوا۔ باب المندب آبنائے کے قریب بھی لڑائی جاری ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا ایک اہم سمندری راستہ ہے۔

باب المندب کی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت کے باعث اس کے گرد جاری کشیدگی کو یمن کے داخلی تنازع سے بڑھ کر ایک اہم علاقائی مسئلے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس راستے کے قریب لڑائی سمندری سلامتی اور خطے میں تجارتی آمدورفت کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

یمنی فوج کے تازہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ملک کے مختلف حصوں میں حوثیوں اور سرکاری افواج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ تاہم، ہلاکتوں کی تعداد، تباہ ہونے والی گاڑیوں اور فوجی سازوسامان، اور مآرب میں اسٹریٹجک مقامات پر قبضے کے بارے میں سرکاری فوج کے بیانات کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.