نیوز ڈیسک
واشنگٹن: ایران کے خلاف جنگ امریکہ کے لیے ایک مہنگا فوجی اور معاشی چیلنج بنتی جا رہی ہے، جہاں جنگی کارروائیوں پر ہونے والے اخراجات مبینہ طور پر 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
یہ رقم پینٹاگون کے جولائی میں جاری کردہ 37.5 ارب ڈالر کے تخمینے سے تقریباً 25 فیصد زیادہ ہے، جبکہ استعمال شدہ گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی اور تباہ شدہ فوجی سازوسامان کی تبدیلی پر مزید اربوں ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع سے حاصل کردہ معلومات جنگ کے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ان اخراجات میں فضائی کارروائیاں، فوجی آپریشنز اور سائبر معاونت سمیت مختلف سرگرمیاں شامل ہیں۔ تاہم، جنگ کے مکمل مالی اثرات کا اندازہ لگانا ابھی ممکن نہیں، کیونکہ فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت اور دیگر اضافی اخراجات ان اعداد و شمار میں مکمل طور پر شامل نہیں ہیں۔
جنگی اخراجات میں مزید اضافے کا امکان
امریکی دفاعی حکام کو جنگ کے دوران استعمال ہونے والے گولہ بارود کے ذخائر دوبارہ بھرنے کے لیے تقریباً 29 ارب ڈالر یا اس سے زیادہ درکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، تباہ یا متاثر ہونے والے فوجی سازوسامان اور جنگی پلیٹ فارمز کی جگہ نئے آلات حاصل کرنے پر مزید 6 ارب ڈالر یا اس سے زیادہ خرچ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ان میں طیارے اور ڈرون بھی شامل ہیں۔
اس طرح، جنگی کارروائیوں کے براہِ راست اخراجات کے علاوہ گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی بحالی امریکی دفاعی بجٹ پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ اگر لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے تو یہ مالی بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
مہنگے ہتھیاروں سے نسبتاً کم لاگت والے ہتھیاروں تک
ایران کے خلاف فوجی مہم کے ابتدائی مرحلے میں امریکی افواج نے جدید اور مہنگے، درست نشانہ لگانے والے میزائلوں پر انحصار کیا۔ ان حملوں کا مقصد ایران کے فضائی دفاعی نظام اور دیگر فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا۔
بعد ازاں، جنگی اخراجات کو قابو میں رکھنے کے لیے نسبتاً کم لاگت والے ہتھیاروں کے استعمال پر زیادہ توجہ دی گئی، جن میں جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشن (JDAM) بم شامل ہیں، جنہیں طیاروں کے ذریعے اہداف پر گرایا جاتا ہے۔
تاہم، ہتھیاروں کی لاگت میں کمی کی کوششوں کے باوجود مسلسل فوجی کارروائیوں، سازوسامان کے نقصان اور گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی کے اخراجات امریکی دفاعی وسائل پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
جنگ بندی کے بعد بھی فوجی دباؤ برقرار
رپورٹ کے مطابق، اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد ایران کو زیرِ زمین ذخیرہ گاہوں سے سازوسامان نکالنے اور اپنے بعض فضائی دفاعی نظام، میزائلوں اور ڈرونز کو دوبارہ فعال کرنے کا موقع ملا۔ اس پیش رفت نے امریکی فوجی حکمت عملی کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کیں۔
بعد ازاں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی محدود کرنے کے لیے بحری ناکہ بندی عائد کی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینٹاگون ممکنہ طور پر دوبارہ شدید لڑائی شروع ہونے کی صورت میں تیاری کر رہا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں فوجی کارروائیوں، ہتھیاروں کی فراہمی اور دفاعی تنصیبات کی بحالی پر مزید اخراجات متوقع ہیں۔
فوجی اخراجات کے ساتھ سیاسی دباؤ بھی بڑھ گیا
جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ میں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، تنازعے سے منسلک عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی دباؤ بڑھایا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کی عوامی منظوری کی شرح میں بھی کمی رپورٹ کی گئی ہے۔
ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی محدود اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ ایسے حالات میں جنگی اخراجات، توانائی کی قیمتیں اور ایران کے ساتھ طویل فوجی تصادم کے ممکنہ نتائج انتخابی بحث میں اہم موضوعات بن سکتے ہیں۔
اصل مالی نقصان 47 ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے
جنگ کے مالی اثرات صرف ان اخراجات تک محدود نہیں جو اب تک فوجی کارروائیوں کے لیے مختص یا خرچ کیے گئے ہیں۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت، تباہ شدہ سازوسامان کی تبدیلی اور مستقبل میں فوجی تیاریوں پر ہونے والے اخراجات مجموعی لاگت میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، گولہ بارود کے ذخائر دوبارہ بھرنے اور جدید فوجی نظام کی بحالی کے لیے درکار رقوم امریکی دفاعی بجٹ کی دوسری ترجیحات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر، ایران کے خلاف جنگ امریکہ کے لیے محض ایک فوجی مہم نہیں رہی بلکہ اس کے مالی، دفاعی اور سیاسی اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ اگر تنازع طویل ہوتا ہے یا دوبارہ شدید لڑائی شروع ہوتی ہے تو امریکی اخراجات میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ تاہم، جنگ کی حتمی لاگت کا تعین اس بات پر منحصر ہوگا کہ فوجی کارروائیاں کب تک جاری رہتی ہیں اور جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی بحالی پر کتنی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔
