زہریلی کھمبیاں کھانے سے تین بچے جاں بحق، والد تدفین کے اخراجات بھی نہ اٹھا سکا

3

نیوز ڈیسک

پشاور: پشاور میں مبینہ طور پر زہریلی جنگلی کھمبیاں کھانے سے تین بچے جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کی والدہ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ افسوسناک واقعے نے خاندان کی شدید غربت کو بھی اجاگر کر دیا، جہاں بچوں کے والد کے پاس اپنے لختِ جگر کی تجہیز و تکفین کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے بھی رقم موجود نہیں تھی۔

مقامی اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خاندان کو مالی مشکلات کے باعث خوراک کی قلت کا سامنا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بچوں کے والد قریبی کھیت سے جنگلی کھمبیاں جمع کرکے گھر لائے، جنہیں پکانے کے بعد بچوں اور ان کی والدہ نے کھا لیا۔

کھمبیاں کھانے کے کچھ ہی دیر بعد خاندان کے افراد کی طبیعت بگڑ گئی، جس پر انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم، طبی امداد کے باوجود تینوں بچے جانبر نہ ہو سکے، جبکہ ان کی والدہ ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

جاں بحق بچوں میں 11 سالہ عروج، 10 سالہ فریال اور 7 سالہ ازلان شامل ہیں۔ واقعے کے بعد خاندان کو ایک طرف بچوں کی موت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا تو دوسری جانب مالی مشکلات نے تدفین کے انتظامات کو بھی دشوار بنا دیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق، بچوں کے والد تجہیز و تکفین کے اخراجات اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، جس پر علاقے کے رہائشیوں نے چندہ جمع کرکے تدفین کے اخراجات پورے کیے۔ بعد ازاں تینوں بچوں کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔

یہ المناک واقعہ غربت اور غذائی قلت کے سنگین انسانی اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جنگلی کھمبیوں کے استعمال سے لاحق خطرات بھی سامنے آئے ہیں، کیونکہ بعض اقسام میں زہریلے مادے موجود ہوتے ہیں جو جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماہرینِ صحت کی عمومی ہدایت ہے کہ نامعلوم اقسام کی جنگلی کھمبیاں ہرگز استعمال نہ کی جائیں، کیونکہ صرف ظاہری شکل کی بنیاد پر ان کے محفوظ یا زہریلے ہونے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

3 Comments
  1. […] مزید خبر: https://urdu.thepenpk.com/?p=10733 […]

  2. […] مزید پڑیھے: https://urdu.thepenpk.com/?p=10733 […]

  3. […] مزید پڑیھے: https://urdu.thepenpk.com/?p=10733 […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.