میرے گھر کے کچن اور جنریٹر میں بھی کرپشن تلاش کی جا رہی ہے: فضل الرحمان  

0

نیوز ڈیسک

پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ بعض عناصر ان کے خلاف سیاسی مخالفت کو ذاتی کردار کشی میں تبدیل کرتے ہوئے ان کے گھر کے کچن اور جنریٹر تک میں کرپشن تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور قبائلی علاقوں کے انتظامی مستقبل سے متعلق ان کے سوالات کا جواب سیاسی الزام تراشی کے بجائے دلیل اور آئینی وضاحت کے ساتھ دیا جائے۔

پشاور میں جے یو آئی (ف) کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا اینڈ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ اعلیٰ سطح کی شخصیات نے فاٹا انضمام کے فیصلے کو غلط قرار دیا ہے اور قبائلی علاقوں کی سابقہ انتظامی حیثیت بحال کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر انضمام کے فیصلے پر نظرثانی کی بات ہو رہی ہے تو اس کے پس پردہ محرکات بھی واضح ہونے چاہییں۔ ماضی میں ان کے بقول یہ فیصلہ ایک بڑی قوت کے کہنے پر کیا گیا تھا، جبکہ اب قبائلی علاقوں کو دوبارہ وفاق کے زیر انتظام لانے کی تجاویز کے پیچھے بھی کسی طاقت کے مفادات کارفرما ہو سکتے ہیں۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ انضمام کے تقریباً دس سال بعد بھی قبائلی علاقوں میں بندوبستی نظام مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔ قانون گو اور پٹواری کا نظام بحال نہیں ہوا، جائیدادوں کی تقسیم کے مسائل برقرار ہیں اور پولیس کا نظام بھی پوری طرح منظم نہیں کیا جا سکا۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کا بنیادی مسئلہ وہاں کے وسائل، معیشت اور عوام کے آئینی و معاشی حقوق کا تحفظ ہے۔ قدرتی وسائل سے متعلق معاہدے شفاف ہونے چاہییں اور مقامی آبادی کو اپنے وسائل میں جائز حصہ ملنا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی اور انتظامی اختیارات کے حوالے سے بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کے معاملات وزارت داخلہ کے پاس ہیں، جبکہ گورنر راج کے حوالے سے وزیراعظم کے براہ راست کردار کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر روزمرہ انتظامی معاملات کی نگرانی کے لیے ایک کونسل قائم ہے تو اس صورت میں گورنر کا آئینی کردار کیا رہ جاتا ہے؟ انہوں نے گورنر راج کے آئینی جواز پر بھی سوال کرتے ہوئے آرٹیکل 232 اور 234 کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔

گھر کے کچن اور جنریٹر تک میں کرپشن تلاش کرنے کا الزام

اپنے خلاف تنقید اور الزامات کا جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بعض عناصر ان کے گھر کے کچن اور جنریٹر تک میں کرپشن تلاش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ان کے علما اور کارکنوں سے رابطے کرکے بھی ان کے خلاف بیانات دلوانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی کردار کشی میں تبدیل کرنے کے بجائے دلیل سے جواب دیا جانا چاہیے۔ وہ پاکستان کے شہری کی حیثیت سے اپنے سوالات کے جواب چاہتے ہیں اور ان کا کسی سے ذاتی جھگڑا نہیں۔

خواجہ آصف سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے انہیں اپنا بڑا بھائی اور قابل احترام شخصیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خواجہ آصف کی صرف گدگدی کی تھی، تاہم ان کا اصل غصہ اگلے روز سامنے آیا۔

پی ٹی آئی سے مذاکرات اور گورنر راج کا معاملہ

مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں اپنے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران بھی انہیں بعض مطالبات اور طریقہ کار پر تحفظات تھے۔

ان کے مطابق بعد ازاں حکومتی وفد نے ان سے رابطہ کیا اور وزیراعظم کی جانب سے ملاقات کی دعوت بھی دی گئی، تاہم انہوں نے خفیہ ملاقات کے بجائے متعلقہ فریقوں کے ساتھ کھلے مکالمے پر زور دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نے مسئلے کے حل کے لیے ایک تجویز پیش کی، جس پر انہوں نے پی ٹی آئی قیادت سے بات کی اور اپنی تجاویز بھی سامنے رکھیں۔ ابتدا میں اتفاق رائے کی امید پیدا ہوئی، تاہم بعد میں اسحاق ڈار نے انہیں آگاہ کیا کہ کابینہ ان تجاویز سے متفق نہیں، جس کے بعد گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیاسی معاملات میں وعدوں اور مذاکرات کی اہمیت ہوتی ہے اور جھوٹے بیانیوں کی بنیاد پر سیاست نہیں چلائی جا سکتی۔

انہوں نے جے یو آئی پر دہشت گردی کے حوالے سے نرم گوشہ رکھنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو آزادانہ کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی کو دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے سیاسی عمل سے باہر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اپنے سیاسی مؤقف پر قائم رہے گی اور اختلافات کا جواب جمہوری، سیاسی اور آئینی انداز میں دیا جانا چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.