نیوز ڈیسک
اسلام آباد: پاکستان اور چین نے مشترکہ سرحد کے انتظام سے متعلق ایک نئے ادارہ جاتی طریقہ کار کو فعال کیا ہے، لیکن اس پیش رفت نے کشمیر اور لداخ سے جڑے دہائیوں پرانے علاقائی اختلاف کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
پاکستان اور چین نے 16 اور 17 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے اجلاس کے دوران پاکستان-چین باؤنڈری جوائنٹ کمیشن کو عملی طور پر فعال کیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق کمیشن کا مقصد سرحدی انتظام، مشترکہ سروے، تجارتی سرگرمیوں اور عوامی روابط سے متعلق تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔
پاکستان اور چین کے نقطۂ نظر سے یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سرحدی انتظام کے ڈھانچے کو مزید منظم کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم بھارت نے کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے اس کی قانونی حیثیت پر اعتراض کیا ہے۔
بھارت کو اعتراض کس بات پر ہے؟
بھارت کے اعتراض کی بنیادی وجہ وہ علاقہ ہے جسے نئی دہلی جموں و کشمیر اور لداخ کے اپنے دعوے کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی انتظامات میں شکسگام وادی بھی شامل رہی ہے۔
1963 میں پاکستان اور چین نے ایک سرحدی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت شکسگام وادی سے متعلق انتظام چین کے حوالے کیا گیا۔ بھارت نے اس معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اس کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو ایسے علاقے کے بارے میں کسی تیسرے ملک کے ساتھ انتظام کرنے کا اختیار نہیں جس پر بھارت اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان اس علاقے کی حیثیت پر بنیادی اختلاف برقرار ہے، اسی لیے دونوں ممالک ایک ہی جغرافیائی خطے کے بارے میں مختلف قانونی اور سیاسی مؤقف رکھتے ہیں۔
نئی دہلی کا مؤقف کیا ہے؟
پاکستان اور چین کے کمیشن کے افتتاحی اجلاس کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ نئی دہلی اس کمیشن کو قانونی بنیاد کا حامل نہیں سمجھتا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق، بھارت نے 1963 کے چین-پاکستان سرحدی معاہدے کو تسلیم نہیں کیا اور ایسے کسی بھی انتظام کی مخالفت کرتا ہے جو اس کے دعوے کے مطابق جموں و کشمیر یا لداخ سے متعلق علاقائی حیثیت کو متاثر کرے۔
بھارت کا یہ مؤقف بھی ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان سرحدی تعاون کے ایسے انتظامات، جن کا تعلق متنازع علاقوں سے ہو، اس کی خودمختاری کے دعوے پر اثر نہیں ڈال سکتے۔
پاکستان اور چین اسے کیسے دیکھتے ہیں؟
اسلام آباد کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی تعاون کوئی اچانک شروع ہونے والا عمل نہیں۔ دونوں ممالک پہلے ہی سرحدی انتظامات، تجارت اور باہمی رابطوں کے مختلف شعبوں میں تعاون کرتے رہے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے نئے کمیشن کو اسی موجودہ تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے تحت سرحدی انتظام، مشترکہ سروے، تجارت اور عوامی سطح پر رابطوں جیسے معاملات پر کام کیا جائے گا۔
یعنی اسلام آباد اور بیجنگ کے لیے کمیشن کا فوری عملی پہلو سرحدی معاملات کو منظم کرنا اور دو طرفہ رابطوں کو بہتر بنانا ہے، جبکہ نئی دہلی اس اقدام کو ایک بڑے علاقائی تنازعے کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
وقت کیوں اہم ہے؟
اس پیش رفت کا وقت بھی اہم ہے۔
چین اور بھارت کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر کئی برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات میں استحکام لانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ اسی دوران پاکستان اور چین اپنے سرحدی اور معاشی روابط کو مزید منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چین اور پاکستان کے درمیان چائنا-پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) بھی بھارت کے اعتراضات کا ایک اہم حصہ رہا ہے، کیونکہ اس منصوبے کے بعض حصے ایسے علاقے سے گزرتے ہیں جس پر بھارت اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔
یوں نیا سرحدی کمیشن محض ایک انتظامی ادارہ نہیں رہتا بلکہ تینوں ممالک کے مختلف علاقائی مؤقف کے درمیان ایک حساس نقطۂ رابطہ بن جاتا ہے۔
کیا یہ کوئی نیا سرحدی تنازعہ ہے؟
بنیادی طور پر نہیں۔
پاکستان، چین اور بھارت کے درمیان اس معاملے کی جڑیں کئی دہائیوں پرانی ہیں۔ 1963 کا پاکستان-چین سرحدی معاہدہ، شکسگام وادی، کشمیر کا تنازعہ اور بعد ازاں CPEC جیسے منصوبے اس وسیع تر علاقائی اختلاف کے مختلف پہلو ہیں۔
نیا کمیشن ان اختلافات کو پیدا نہیں کرتا، بلکہ ایک ایسے وقت میں موجودہ اختلاف کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے جب پاکستان اور چین اپنے دو طرفہ سرحدی تعاون کو مزید منظم کر رہے ہیں اور بھارت اس اقدام کی قانونی حیثیت کو چیلنج کر رہا ہے۔
اصل معاملہ کیا ہے؟
پاکستان اور چین کے لیے یہ کمیشن سرحدی انتظام، تجارت اور رابطوں کے لیے ادارہ جاتی تعاون کا ایک نیا مرحلہ ہے۔
بھارت کے لیے بنیادی سوال علاقائی خودمختاری اور متنازع علاقوں کی قانونی حیثیت کا ہے۔
اسی لیے ایک ہی اقدام کو تینوں دارالحکومت مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہمالیائی خطے میں سرحدیں، تاریخی معاہدے، علاقائی دعوے، سلامتی اور معاشی رابطے ایک دوسرے سے اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ کسی انتظامی فیصلے کے اثرات صرف سرحدی نگرانی تک محدود نہیں رہتے۔
