ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے کتنے دن کی مہلت دے دی؟

0

نیوز ڈیسک

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کا فی الحال امریکی حکام کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں، جبکہ واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کا فیصلہ امریکہ کی جانب سے تہران کی شرائط تسلیم کیے جانے سے مشروط ہوگا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکانات، علاقائی ثالثی کی کوششوں، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں دوبارہ فوجی تصادم کے خدشات پر اظہار خیال کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی حکام کے ساتھ ممکنہ ملاقات سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں محض قیاس آرائیاں قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ براہ راست ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور اس معاملے پر ثالث ممالک سے مشاورت جاری ہے۔

عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ ایک ایرانی وفد قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مشاورت کے لیے دوحہ روانہ ہو چکا ہے، جہاں سفارتی کوششوں کے ذریعے جاری بحران کے حل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ قطر کے ساتھ مشاورت کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی تجویز میں بھی تبدیلی کی ہے۔

عراقچی کے مطابق ایران نے ابتدائی طور پر پیشکش کی تھی کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی شرائط تسلیم کیے جانے کی صورت میں مذاکرات شروع ہونے کے سات روز بعد آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ تاہم قطری ثالثوں نے یہ مدت پانچ روز کرنے کی تجویز دی، جس کے بعد ایران نے اسے مزید کم کرکے صرف دو روز کر دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران کے مطالبات میں ‘اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت’ کے بعد عائد کی جانے والی پابندیوں کا خاتمہ، خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی اور ایران کو آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران بیرون ملک منجمد اپنے تمام اثاثوں کی واپسی بھی چاہتا ہے، جن میں قطر میں موجود ایرانی اثاثے بھی شامل ہیں۔

عراقچی نے مزید کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز میں ایران اور عمان کے درمیان قائم جہاز رانی کے راستوں کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق ایران براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ اسی وقت کرے گا جب واشنگٹن اس کی شرائط قبول کرے گا۔

امریکہ کے نو منتخب نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھیجے گئے خط کے حوالے سے عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران نے اعلیٰ سطح پر اس خط کا بغور جائزہ لیا ہے۔

انہوں نے خط کو مذاکرات اور بات چیت کے آغاز کے لیے ایک مثبت کوشش قرار دیا، تاہم خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن کا مقصد اس خط کے ذریعے اختلافات اور تقسیم پیدا کرنا ہے تو یہ امریکہ کی ایک اور بڑی غلط فہمی ثابت ہوگی۔

دوسری جانب، امریکہ یا اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کے امکان پر بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران کسی نئے تنازع کے امکان کو مسترد نہیں کرتا اور ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اپنے ہتھیاروں کے نظام کو جدید بنایا، دفاعی کمزوریوں کو دور کیا اور نئے فوجی سازوسامان کے تجربات کیے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی مسلح افواج اس وقت غیر معمولی طور پر اعلیٰ سطح کی تیاری کی حالت میں ہیں۔

امریکی پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والے معاشی چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کسی بھی صورت دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا بلکہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے موجودہ مشکلات پر قابو پائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.