نیوز ڈیسک
پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں امن و امان سے متعلق فیصلے اب اسلام آباد میں کیے جائیں گے، جبکہ ریاست اور آئین کو چیلنج کرنے والے مسلح عناصر کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔
اتوار کو پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر کے پی نے کہا کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے صوبے میں زیرو ٹالرینس پالیسی اختیار کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو عناصر ریاست، آئین اور قانون کو تسلیم نہیں کرتے اور ہتھیار اٹھاتے ہیں، انہیں مذاکرات کے بجائے مؤثر کارروائی کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔ ان کے بقول صوبے میں سکیورٹی کی ذمہ داری سیاسی قیادت بھی قبول کرے گی اور پولیس کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے ہر ممکن وسائل اور تعاون فراہم کیا جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے سابقہ صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کا مؤثر ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے افغان حکام کے پشاور پر قبضے سے متعلق بیانات اور افغانستان سے پاکستان کی جانب ڈرونز بھیجے جانے کے معاملے پر ماضی کی خاموشی کو بھی افسوس ناک قرار دیا۔
گورنر نے کہا کہ صوبے میں پائیدار ترقی کے لیے امن و امان کا قیام بنیادی شرط ہے۔ سکیورٹی کے بغیر ترقیاتی منصوبے، سڑکیں اور پل عوام کو مطلوبہ فوائد فراہم نہیں کر سکتے۔
انہوں نے ماضی میں سکیورٹی فورسز کو مناسب وسائل اور تعاون فراہم نہ کیے جانے کو بھی ایک بڑی خامی قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شکست ان کی لغت میں نہیں ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاہم دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کے آئینی حقوق اور وسائل کے حصول کے لیے وفاقی حکومت کے سامنے آواز اٹھائی جاتی رہے گی، لیکن ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔
