ڈیموکریٹس کی ممکنہ جیت، ٹرمپ نے کون سا پلان تیار کرلیا؟

0

نیوز ڈیسک

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ کامیابی اور کانگریس کا کنٹرول ری پبلکنز کے ہاتھ سے نکلنے کی صورت میں حکومت چلانے کے متبادل منصوبے تیار کرلیے ہیں۔ ان منصوبوں کے تحت صدر ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھ سکتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے سینئر حکام کئی ماہ سے ایسی حکمت عملی پر کام کررہے ہیں جس کے ذریعے ڈیموکریٹس کے کانگریس پر ممکنہ غلبے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کو حکومتی امور چلانے، قانون سازی کی رکاوٹوں سے نمٹنے اور ممکنہ تحقیقات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کیا جاسکے۔

رپورٹ میں اس منصوبے سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر اور بجٹ ڈائریکٹر رسل ووٹ سمیت اعلیٰ حکام ایسے اقدامات کی نشاندہی کررہے ہیں جن کے ذریعے صدر ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر اپنے اختیارات استعمال کرسکیں۔

ان اقدامات میں امیگریشن پالیسی، درآمدی محصولات (ٹیرف)، ہاؤسنگ اور وفاقی فنڈز کے استعمال جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔

ڈیموکریٹس کی ممکنہ کامیابی نے وائٹ ہاؤس کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کردیا؟

ٹرمپ انتظامیہ کی یہ منصوبہ بندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے جارہے ہیں اور رائے عامہ کے مختلف جائزوں میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں کامیابی کے لیے بہتر پوزیشن میں دکھایا جارہا ہے، جب کہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے حوالے سے صورت حال غیر یقینی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ان جائزوں اور ری پبلکنز کی ممکنہ انتخابی شکست سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے میڈیا پر غلط تاثر پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ایک ماہ سے ری پبلکنز کی کانگریس میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے ملک بھر میں انتخابی جلسوں سے خطاب کررہے ہیں۔ تاہم ان کے قریبی معاونین انتخابات کے بعد 2027 میں ممکنہ طور پر تبدیل ہونے والی سیاسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے بھی تیاری کررہے ہیں۔

اگر ڈیموکریٹس انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے کانگریس کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں تو انہیں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی تحقیقات شروع کرنے، قانون سازی میں رکاوٹ ڈالنے اور وفاقی اخراجات محدود کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔

اس کے باوجود صدر ٹرمپ کے پاس تجارت، خارجہ پالیسی اور وفاقی انتظامی اداروں سے متعلق متعدد اختیارات برقرار رہیں گے، جنہیں وہ اپنے دوسرے صدارتی دور میں پہلے ہی وسیع پیمانے پر استعمال کرتے آئے ہیں۔

کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ٹرمپ کے لیے کتنی بڑی رکاوٹ ہوگی؟

کانگریس پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول قائم ہونے کی صورت میں صدر ٹرمپ کی حمایت یافتہ قانون سازی کی منظوری مشکل ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب صدر کو ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کیے جانے والے ایسے قوانین ویٹو کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا جن سے وہ اتفاق نہیں کرتے۔

تاہم ڈیموکریٹس کے لیے ایوانِ نمائندگان میں اتنی نشستیں حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے جن کی مدد سے وہ صدر کے ویٹو کو ختم کرسکیں۔

صدر ٹرمپ خود بھی ایک حالیہ انٹرویو میں اس ممکنہ صورت حال پر تبصرہ کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس وسط مدتی انتخابات جیت گئے تو وہ مسٹر ویٹو بن جائیں گے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کی ایک خصوصی ٹیم اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ صدر قانونی طور پر اپنے انتظامی اختیارات کی حدود کو کس طرح وسیع کرسکتے ہیں اور ان کے ذریعے کیے گئے فیصلوں کا عدالتوں میں دفاع کیسے ممکن ہوگا۔

رائٹرز کے مطابق اس منصوبے سے واقف ایک عہدیدار نے بتایا کہ وفاقی حکومتی ادارے بھی ایسی تجاویز اور قانونی جائزے وائٹ ہاؤس کو پیش کرچکے ہیں جن کے تحت کانگریس کی منظوری کے بغیر مختلف حکومتی فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ کو ان تیاریوں سے آگاہ کیا جاچکا ہے اور وہ خود بھی اس حوالے سے ہونے والی مشاورت میں شریک رہے ہیں۔

رپورٹ میں جب ایک عہدیدار سے پوچھا گیا کہ کیا صدر ٹرمپ ڈیموکریٹس کے کانگریس پر کنٹرول کے باوجود صدارتی اختیارات کے ذریعے حکومت چلانے میں خود کو مطمئن محسوس کریں گے تو ان کا جواب تھا کہ وہ اس حوالے سے بہت زیادہ مطمئن ہوں گے۔

کیا ٹرمپ پہلے بھی کانگریس کو نظر انداز کرکے فیصلے کرتے رہے ہیں؟

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کانگریس کی منظوری کے بغیر صدارتی اختیارات استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وہ متعدد اہم معاملات میں ایگزیکٹیو آرڈرز اور انتظامی اختیارات کے ذریعے فیصلے کرتے رہے ہیں۔

ان اقدامات میں مختلف ممالک پر وسیع پیمانے پر درآمدی محصولات عائد کرنا، سخت امیگریشن پالیسیاں نافذ کرنا، وفاقی ملازمین کی تعداد کم کرنے کے اقدامات اور خارجہ پالیسی سے متعلق اہم فیصلے شامل ہیں۔

غیر جانب دار سیاسی تجزیاتی ادارے اِن سائیڈ الیکشنز کے مدیر نیتھن گونزالس کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ دو برسوں کے دوران بڑی حد تک کانگریس کو نظر انداز کرتے ہوئے ایگزیکٹیو آرڈرز کے ذریعے اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کی کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو صدر ٹرمپ اسی طرز حکمرانی کو مزید جاری رکھ سکتے ہیں۔

تاہم انتظامی اختیارات کا استعمال کانگریس کی ممکنہ تحقیقات سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کرسکتا۔ یہی وہ پہلو ہے جس کے باعث وائٹ ہاؤس میں کئی ماہ سے اضافی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

کیا ڈیموکریٹس ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کرسکتے ہیں؟

اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو انہیں صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اقدامات کی تحقیقات شروع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

ان تحقیقات کا ایک اہم ممکنہ پہلو یہ ہوگا کہ آیا صدر ٹرمپ نے اپنے صدارتی اختیارات ذاتی مفادات، قریبی ساتھیوں یا مالی معاونین کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیے یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے معاونین گزشتہ کئی ماہ سے ایسی ممکنہ تحقیقات کا سامنا کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔

اس منصوبے سے واقف ایک عہدیدار نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے قانونی ماہرین سیاسی بنیادوں پر تعینات عہدیداروں اور مختلف سرکاری اداروں کے سربراہوں کو کانگریس کی پوچھ گچھ، دستاویزات کی طلبی اور عدالتی سمن سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بریفنگ دے رہے ہیں۔

حکام کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ سرکاری معاملات سے متعلق تحریری ریکارڈ تیار کرتے وقت خاص احتیاط برتیں۔

اگلا سال امریکی سیاست کا نیا منظرنامہ؟

مجموعی طور پر وسط مدتی انتخابات کے نتائج صدر ٹرمپ کے آئندہ دو سالہ دور حکومت کی سیاسی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو صدر ٹرمپ کو قانون سازی، وفاقی اخراجات اور سرکاری تقرریوں کے معاملات میں سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جب کہ ان کی انتظامیہ کو مختلف پالیسیوں اور صدارتی فیصلوں پر کانگریس کے سامنے جواب دہ بھی ہونا پڑے گا۔

اس کے برعکس وائٹ ہاؤس صدارتی اختیارات، انتظامی احکامات اور قانونی راستوں کے ذریعے اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھنے کی تیاری کررہا ہے۔

یوں امریکی وسط مدتی انتخابات محض کانگریس میں اکثریت کی تبدیلی کا معاملہ نہیں رہے بلکہ ان کے نتائج صدر ٹرمپ اور ڈیموکریٹس کے درمیان آئندہ دو برسوں کے اختیارات، قانون سازی اور سیاسی کشمکش کی نوعیت بھی متعین کرسکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.