نیوز ڈیسک
دوحہ: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے قطر کی ثالثی میں مذاکرات تیسرے روز بھی جاری رہے، تاہم تاحال کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت دو روز کے اندر مکمل طور پر بحال کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس پر عمل درآمد امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی مطالبات تسلیم کرنے سے مشروط ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایرانی مذاکرات کاروں اور قطری ثالثوں کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مشاورت جاری ہے۔ مذاکرات سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارتی کوششوں کا مقصد واشنگٹن سے مسلسل رابطوں کے ذریعے کسی قابل قبول معاہدے تک پہنچنا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطری ثالثوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے کا انحصار امریکا کی جانب سے ایران کے سوالات کے جوابات پر ہوگا
ان کا کہنا تھا کہ ایران دفاع اور سفارتکاری دونوں کے لیے تیار ہے اور امید ہے کہ امریکا دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتی راستے کو ترجیح دے گا۔
آبنائے ہرمز دو روز میں کھولنے کا ایرانی منصوبہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے دو روزہ منصوبہ تیار کیا ہے، جس پر قطری ثالثوں کے ذریعے مشاورت جاری ہے۔
عراقچی نے بتایا کہ ایران کی ابتدائی تجویز میں آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سات روز کی مدت رکھی گئی تھی، تاہم قطری ثالثوں نے اسے پانچ روز تک محدود کرنے کی تجویز دی۔ اب اس عمل کو مزید مختصر کرکے دو روز میں مکمل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
منصوبے کے تحت پہلے روز امریکا کو متعدد طے شدہ اقدامات کرنا ہوں گے، جس کے بعد دوسرے روز آبنائے ہرمز دوبارہ کھول کر بحری آمدورفت بحال کی جاسکے گی۔
تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ منصوبے پر عمل درآمد امریکا کی جانب سے ایران کے مطالبات قبول کرنے اور اپنے وعدوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق حتمی فیصلہ امریکی ردعمل پر منحصر ہوگا۔
ایران کے امریکا سے اہم مطالبات کیا ہیں؟
الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز کے ساتھ امریکا کے سامنے متعدد مطالبات بھی رکھے ہیں۔
ان مطالبات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد عائد کی گئی امریکی پابندیوں کا خاتمہ، خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی، ایرانی تیل پر پابندیوں میں دی گئی چھوٹ کی بحالی اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی شامل ہیں۔
ایران نے قطر میں موجود اپنے منجمد اثاثوں سمیت بیرون ملک تمام رقوم کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ تہران آبنائے ہرمز میں ایران اور عمان کے درمیان زیر بحث بحری راستوں کو تسلیم کرنے اور دیگر متبادل راستے بند کرنے کا خواہاں ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز کو ایرانی شرائط کے تحت دوبارہ کھولنے سے امریکا کے ساتھ دیگر زیر التوا معاملات پر مذاکرات کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔
امریکی انتخابات کے بعد جنگ میں شدت کا خدشہ
دوحہ میں سفارتی رابطے ایسے وقت میں جاری ہیں جب 3 نومبر کو امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی اور جنگ میں شدت آنے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا انتخابات سے قبل ایران پر نئے حملے نہیں کرے گا۔ انہوں نے تہران کے ساتھ جاری مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیا ہے، تاہم انتخابات کے بعد مزید فوجی کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز بھی کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم امریکا کو ایران میں بعض اہداف سے متعلق معاملات ابھی حل کرنے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور وہ تنازع کا سفارتی حل چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق سفارتی حل کی صورت میں امریکا مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس پر دوبارہ حملہ ہونے کی صورت میں پڑوسی ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ہفتے کے روز مسلح افواج کو کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں پر زور دیا کہ دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جائے اور کسی بھی جارحیت کا مناسب جواب دینے کے لیے تیاری مکمل رکھی جائے۔
اس کے بعد ایرانی فوج نے بھی اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کا اعلان کیا۔
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو جنگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی مسلح افواج پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکی ہیں اور ملک دفاع کے ساتھ سفارتکاری کے لیے بھی تیار ہے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ ختم کرانے کی سفارتی کوششوں میں قطر کے ساتھ پاکستان بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔
قطری وفد نے جمعے کو تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ طویل مشاورت کی تھی، جس کے بعد سفارتی رابطوں کا سلسلہ دوحہ منتقل ہوگیا۔
الجزیرہ کے مطابق پاکستانی اور قطری ثالث بھی ایران کی شرائط اور ممکنہ معاہدے کے نکات پر مشاورت کررہے ہیں، جب کہ پاکستان کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ قطر جانے والے ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ کی سطح پر تھی اور اس دورے کا بنیادی مقصد قطری ثالثوں کے ساتھ مشاورت کو آگے بڑھانا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس دورے کے دوران امریکی وفد کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا کوئی پروگرام طے نہیں تھا۔
آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے عالمی اثرات
ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی جنگ کو تقریباً آٹھ ماہ گزر چکے ہیں۔ اس دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور توانائی کی منڈیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے دنیا کے مختلف ممالک کو بڑی مقدار میں خام تیل اور توانائی کی مصنوعات فراہم کی جاتی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق جنگ کے باعث عالمی توانائی بحران مزید سنگین ہوا ہے، جب کہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اس تنازع کے اثرات سے متاثر ہورہے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں امریکا اور ایران دونوں جانب سے سفارتکاری کے امکانات برقرار رکھنے کے ساتھ فوجی کارروائی کے لیے بھی تیاریوں کے اشارے دیے جارہے ہیں۔ ایسے میں دوحہ میں جاری مذاکرات اور آبنائے ہرمز کھولنے کی دو روزہ ایرانی تجویز کو جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے امریکی ردعمل اور دونوں فریقوں کے درمیان شرائط پر اتفاق ضروری ہوگا۔
